دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jald Bazi kay Nuqsanat | جلد بازی کے نقصانات

book_icon
جلد بازی کے نقصانات

(۷)  تراویح میں جلد بازی

        تراویح پڑھانے والے اکثر حُفاظ جلد بازی کا شکار ہوجاتے ہیں ، دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1548 صفحات پر مشتمل کتاب فیضانِ سنت کے صفحہ1097 پر امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  لکھتے ہیں : افسوس!آج کل دینی معاملات میں سُستی کا دور دورہ ہے، عُمُوماً تراویح میں قرآنِ مجید ایک بار بھی صحیح معنوں میں ختم نہیں ہوتا۔قرآنِ پاک ترتیل کے ساتھ یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے، مگر حال یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا کرے تو لوگ اسکے ساتھ تراویح پڑھنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔اب وہی حافظ پسند کیا جاتا ہے جو تراویح سے جلد فارِغ کردے۔     

یادرکھئے!تراویح کے علاوہ بھی تِلاوت میں حَرف چَباجانا حرام ہے۔اگر جلدی جلدی پڑھنے میں حافظ صاحب پورے قرآنِ مجید میں سے ایک حَرف بھی چباگئے تو ختمِ قرآن کی سنت ادا نہ ہوگی۔لہٰذا کسی آیت میں کوئی حرف ’’چب‘‘ گیا یا اپنے ’’مَخْرَج‘‘ سے نہ نکلا تو لوگوں سے شرمائے بغیر پلٹ پڑئیے اور دُرُست پڑھ کر پھر آگے بڑھئے۔ ایک افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ حُفاظ کی ایک تعداد ایسی ہوتی ہے جسے ترتیل کے ساتھ پڑھنا ہی نہیں آتا!تیزی سے نہ پڑھیں تو بے چارے بھول جاتے ہیں ! ایسوں کی خدمت میں ہمدردانہ مَدَنی مشورہ ہے ، لوگوں سے نہ شرمائیں ، خدا کی قسم! اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی ناراضگی بَہُت بھاری پڑے گی لہٰذا بلا تاخیر تجوید کے ساتھ پڑھانے والے کسی قا ری صاحِب کی مدد سے از اِبتِداء تا اِنتِہااپنا حِفظ دُرُست فر ما لیں ۔ مَدولین  [1]؎   کا خیال رکھنا لا زِمی ہے نیز مَد، غُنَّہ، اِظہار  ، اِخفا وغیرہ کی بھی رعایت فرمائیں ۔ صاحبِ بہارِشریعت حضرت صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی  فرما تے ہیں : ’’فرضو ں میں ٹھہر ٹھہر کر قِرا ء َت کرے اور تراویح میں مُتَوَسِّط (یعنی درمیا نہ ) انداز پر اور رات کے نوافِل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے، مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم ’’ مَدّ‘‘ کا جو دَرَجہ قا رِیو ں نے رکھا ہے اُس کو ادا کرے ورنہ حرام ہے ۔اس لئے کہ تَرتیل سے (یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر)  قراٰن پڑھنے کا حُکُم ہے ۔ ‘‘(الدر المختاروَ ردالمحتارج۲ص۲۶۲ ، بہارشریعت ج ۱ص۵۴۷)

صدر الشریعہ کی کڑھن

        صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی   اپنی کُڑھن کا اِظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں : افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حُفّاظ کی حالت نہایت ناگُفتَہ بِہ ہے، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا الفاظ و حُروف کھا جایا کرتے ہیں جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں اُنھیں دیکھئے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے ہمزہ، الف، عین اور ذ، ز، ظ اورث، س، ص، ت، ط وغیرہا حروف میں تَفرِقہ (یعنی فرق)نہیں کرتے جس سے قَطعاً نَماز ہی نہیں ہوتی فقیر کو انھیں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قرآن مجید سننا نہ ملا۔ مولا عَزَّ وَجَلَّ  مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (یعنی جیسا اللّٰہ  تَعَالٰی  نے نازل فرمایا ویسا)پڑھنے کی کوشِش کریں ۔   (بہارِشریعت، ج۱، ص۶۹۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸) امام کولُقمہ دینے میں جلد بازی

        دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ47 صفحات پر مشتمل کتاب ’’نماز میں لُقمہ دینے کے مسائل ‘‘کے صفحہ 14پرہے : نَمازمیں اپنے امام کو لُقمہ دینا (یعنی بتانا یا اِصلاح کرنا) بعض صورتوں میں فرض ہے، بعض صورتوں میں واجب اور بعض صورتوں میں جائز ہے ۔ یوں ہی بعض صورتوں میں حرام ہے ، بعض صورتوں میں مکروہ ۔بَسا اوقات لُقمہ کا تعلق امام کی قراء ت کے ساتھ ہوتا ہے تو بسااوقات اِنتقالاتِ امام کے ساتھ ۔(نماز میں لقمہ دینے کے مسائل ، ص ۴۱)

        لہٰذا لُقمہ دینے والے کو معلوم ہونا چاہئے کہ کب لُقمہ دینا ہے اور کب نہیں ؟ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ تراویح میں حافظ صاحب ذرا سا بُھولے تو جھٹ سے پیچھے کھڑا سامِع یا کوئی اورجلد بازی میں لُقمہ دے دیتا ہے حالانکہ فوراًہی لُقمہ دینا مکروہ ہے بلکہ تھوڑا توقُّف چاہیے کہ شاید امام خود نکال لے مگر جبکہ اسکی عادت اسے معلوم ہو کہ رُکتا ہے تو بعض ایسے حُرُوف نکلتے ہیں جن سے نَماز فاسِد ہوجاتی ہے تو فوراً بتائے۔  (بہار شریعت، ج۱، حصہ۳، ص ۲۰۷بحوالہ رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ۔۔۔الخ، ج۲، ص۴۲۳)

حافظ صاحب کو پریشان کرنے کی نیت حرام ہے

      بعض مساجد میں تراویح پڑھانے والے کے پیچھے کئی کئی حافظ کھڑے لُقمے دے رہے ہوتے ہیں ، انہیں اپنی نیت کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے اگر ان کی نیت حافِظ صاحب کو پریشان کرنے کی ہوئی تو ایسا کرنا حرام ہو گا، امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین وملت، شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں :  ’’قاری(پڑھنے والے) کو پریشان کرنے کی نیت حرام ہے ، رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ علیہ وسلم اِرشاد فرماتے ہیں :  بَشِّرُوْا وَ لَاتُنَفِّرُوْا وَ یَسِّرُوْا وَ لَا تُعَسِّرُوْا ترجمہ :  لوگوں کو خوشخبریاں سناؤ نفرت نہ دلاؤ ، آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو۔اور بے شک آج بہت سے حفاظ کا یہ شیوہ ہے، یہ بتانا نہیں بلکہ حقیقۃً یہود کے اس فعل میں داخل ہے(جس کا ذکر قران پاک میں ہوا ، فرمایا گیا : )

لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ ۲۴، حم السجدۃ :  ۲۶)

 ترجمہ کنزالایمان :  یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بے ہودہ غُل کرو۔ (فتاویٰ رضویہ، ج۷ ص۲۸۷)

حفظ جتلانے کی نیت

        اگر کسی کی نیت اِمام کو پریشان کرنے کی تو نہ ہو مگر اپنا حِفظ جَتلانا مقصود ہو تو یہ بھی حرام ہے۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فتاویٰ رضویہ شریف میں اِرشاد فرماتے ہیں : اپنا حِفظ جَتانے کے لیے ذرا ذرا شُبہ پر روکنا رِیا ہے اور رِیا حرام ہے خُصُوصاً نَماز میں ۔(فتاویٰ رضویہ ، ج۷، ص۲۸۷)

غلط لُقمہ دینے سے نَماز ٹوٹ جاتی ہے

 



1     واؤ، ی ساکن،اور الف، ما قبل کی حرکت موافِق (یعنی الف سے پہلے زبر، واؤ ساکن سے پہلے پیش اور یاء ساکن سے پہلے زیر) ہو تو ان کو حروفِ مدّہ اورواؤ اوری ساکن ماقبل مفتوح ہو تو انہیں حروفِ لین کہتے ہیں۔

     (نصاب التجویدص ۹)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن