30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئیں گی یہ تو مسجد کی روٹیاں توڑتے ہیں، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ میں ایمان داری کی بات بتاتا ہوں کہ عالمِ دِین زیادہ ذہین ہوتا ہے اور مفتی ذہینوں کا سردار ہوتا ہے یعنی بہت ہی زیادہ ذہین ہوتا ہے ۔ یہ لوگ عام طور پر مروت اور سادگی کی وجہ سے ان دُنیوی پڑھے لکھے لوگوں سے اُلجھتے نہیں ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی ۔ اگر کسی کی ایسی سوچ نہ بھی ہو تو اسے یہ وسوسہ آسکتا ہے کہ ”مولانا کومیرا یہ مقالہ یا آرٹیکل کیا سمجھ آئے گا، ٹھیک ہے ، مولانا اچھے ہیں، میں جمعہ کی نماز انہی کے پیچھے پڑھتا ہوں، یہ تقریر بھی اچھی کرتے ہیں اور مسائل بھی بیان کرتے ہیں مگر میرا آرٹیکل یہ نہیں سمجھ سکیں گے ۔ “حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کو سمجھ نہ آئے لہٰذا کم از کم شرعی تفتیش ضرور کروانی چاہیے ۔ پھر یہ لوگ جو مقالہ لکھتے ہیں عام طور پر دنیوی موضوع پر ہوتا ہے اور ان کے لیے عافیت بھی اسی میں ہے کیونکہ کسی دِینی موضوع پر لکھیں گے تو ممکن ہے کہ بہت سے غلطیاں کر بیٹھیں ۔ (اس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا : ) اسلامی موضوعات پر بھی یہ لوگ کئی مضامین لکھتے ہیں جیسے کوئی قرآنِ پاک پر لکھتا ہے ، کوئی حدیث شریف پر لکھتا ہے یا بزرگوں کی سیرت پر لکھتا ہے یا مذہبی شخصیات کی خدمات پر لکھتا ہے یا سرکار مدینہصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ کی سیرت پر لکھتا ہے ۔ اس طرح یہ ایک پورا شعبہ ہے جس میں مختلف مضامین لکھنے کا سلسلہ ہوتا ہے ۔
(امیرِ اہلِ سُنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : ) اگر کوئی واقعی لکھنے کا اہل ہے تو وہ لکھے لیکن لکھنے کی اہلیت کا کیسے پتا چلے گا؟ ظاہر ہے اس کے لیے کسی اہل یعنی عالمِ دِین کو اپنی تحریر چیک کروانی ہوگی ۔ عموماً یہ لوگ کسی کو چیک کروائے بغیر خود کو اہل ہی سمجھ رہے ہوتے ہیں جیسے کہتے ہیں ہم نے قرآنِ پاک پڑھا ہوا ہے اور رَمضان شریف میں دو قرآنِ پاک ختم کرتے ہیں، یہ لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں پڑھنا آتا ہے اگر یہی لوگ کسی قاری کو سنائیں تو قاری صاحب بتائیں گے کہ آپ کو تو ” بِسْمِ اللہ“پڑھنا بھی نہیں آتی، پھر ان کی قاری صاحب سے لڑائی ہوجائے گی کہ میں تو اتنے عرصے سے قرآن پڑھ رہا ہوں اور آپ کہہ رہے ہیں مجھے ”بِسْمِ اللہ“پڑھنا بھی نہیں آتی ۔ تو جناب! آپ کو تو ”اَعُوْذُ بِاللہ“پڑھنا بھی نہیں آتی ۔ لہٰذا جب تک کسی عالمِ دِین سے دُرُست نہیں کروائیں گے تب تک کسی بھی غلطی کا معلوم نہیں ہوگا ۔ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ 99 فیصد افراد کو دُرُست تلفظ کے ساتھ” اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ“پڑھنا نہیں آتی ہوگی بلکہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ اکثریت ” بِسْمِ اللہِ“ بھی دُرُست نہیں پڑھتی سورۂ فاتحہ پڑھنا تو بہت بڑی بات ہے لہٰذا سب کو سیکھنا چاہیے ۔ یوں ہی جو اسلامی بھائی آرٹیکل لکھتے ہیں ان کے لیے اس میں بہت رسک ہوتا ہے بلکہ دُنیوی آرٹیکل میں بھی کم رسک نہیں ہوتا ہے اس میں بھی کچھ کا کچھ لکھ جاتے ہیں ۔
تخلیقِ انسانی کے متعلق ڈارون کے نظریے کا رَد
سُوال : تخلیقِ انسانی کے متعلق ڈارون کے نظریہ کو دُرُست سمجھنا کیسا ہے ؟ ([1])
جواب : کافی پرانی بات ہے کہ میرا کسی دُنیوی پڑھے لکھے سے واسطہ پڑا تھا ۔ باتوں ہی باتوں میں نہ جانے اس کو کیا سوجھی کہ تخلیقِ انسانی کے بارے میں بات کرنے لگا کہ قرآنِ پاک انسان کی پیدائش کے بارے میں کہتا ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے انسان پیدا ہوا اور ان ہی سے انسان کی نسل چلی جبکہ ڈارون کہتا ہے کہ انسان بندر سے وجود میں آیا ۔ اس نے یہاں تک تو جو کہا وہ کہا اس کے بعد اس نے یہ بکا کہ ”ڈارون کی بات کچھ کچھ سمجھ آتی ہے ۔ “ یہ سن کر میں بالکل پریشان ہوگیا کہ اس نے تو اپنے ایمان کا جنازہ اُٹھادیا ہے کیونکہ اس نے قرآنِ پاک پر شک کیا اور کہا کہ ”ڈار ون کی بات کچھ کچھ سمجھ آتی ہے ۔ “ قرآنِ کریم کے مقابلے میں کسی کی بات تھوڑی بھی کیوں سمجھ آئے ایسی سمجھ کو چولہے میں ڈال دینا چاہیے یہ کس کام کی ہے ؟ بہرحال پھر میں نے موقع ملتے ہی اس کو سمجھاکر توبہ کروائی اور کلمہ پڑھایا کہ یہ بات تو اسلام سے خارج کر دینے والی ہے ۔ ([2])
اسلام مخالف سائنسی نظریات رَدی کی ٹوکری میں
قرآنِ پاک پر آنکھیں بند ہونی چاہئیں کیونکہ قرآنِ پاک نے جو فرمایا ہے وہی درست ہے چاہے ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے ، ہمارا ایمان ہے کہ اس میں جو کچھ ہے وہ صحیح ہے ۔ دُنیوی پڑھے لکھے لوگوں کے لیے اس طرح کے بہت خطرے ہوتے ہیں کہ یہ لوگ بہت سے اِسلام مخالفت سائنسی نظریات اپنی تحریروں میں شامل کر دیتے ہیں ۔ آج کل اخبار میں یا سوشل میڈیا پر بہت سی ایسی باتیں آرہی ہوتی ہیں جو اسلامی نظریات سے ٹکراتی ہیں ۔ بعض تو کھلم کھلا اِسلام کے خلاف ہی بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ایسے دُنیوی پڑھے لکھے لوگوں کو کون سمجھانے کی ہمت کرے کیونکہ ان کی زبان بھی بہت بڑی ہوتی ہے ، یہ لوگ ایسی لچھے دار باتیں کرتے ہیں کہ سامنے والا گھبرا جائے لہٰذا انہیں سمجھانا بھی آسان نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی شخص اہلِ علم ہے اور سمجھا سکتا ہے تو انہیں نرمی سے سمجھائے اور توبہ کا کہے ۔ اگر ان سے سخت رویہ رکھے گا اور اس طرح کہے گا کہ ”تم جاہل ہو دِین کی بات کرنا عُلَما کا کام ہے “ تو ہوسکتا ہے وہ سمجھنے کے بجائے مزید بگڑ جائیں ۔ ہر ایک کے
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[2] تفسیر صراط الجنان میں ہے : مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انسانوں کی ابتداء حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے ہوئی اور اسی لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ابوالبشر یعنی انسانوں کا باپ کہا جاتا ہے ۔ اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے انسانیت کی ابتداء ہونا بڑی قوی دلیل سے ثابت ہے مثلاً دنیا کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ آج سے سو سال پہلے دنیا میں انسانوں کی تعداد آج سے بہت کم تھی اور اس سے سو برس پہلے اور بھی کم تو اس طرح ماضی کی طرف چلتے چلتے اس کمی کی انتہاء ایک ذات قرار پائے گی اور وہ ذات حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں یا یوں کہئے کہ قبیلوں کی کثیر تعداد ایک شخص پر جاکر ختم ہوجاتی ہیں مثلاً سیّد دنیا میں کروڑوں پائے جائیں گے مگر اُن کی انتہا رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ایک ذات پر ہوگی، یونہی بنی اسرائیل کتنے بھی کثیر ہوں مگر اس تمام کثرت کا اختتام حضرت یعقوبعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ایک ذات پر ہوگا ۔ اب اسی طرح اور اوپر کو چلنا شروع کریں تو انسان کے تمام کنبوں ، قبیلوں کی انتہا ایک ذات پر ہوگی جس کا نام تمام آسمانی کتابوں میں آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہے اور یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک شخص پیدائش کے موجود طریقے سے پیدا ہوا ہو یعنی ماں باپ سے پیدا ہوا ہو کیونکہ اگر اس کے لئے باپ فرض بھی کیا جائے تو ماں کہاں سے آئے اور پھر جسے باپ مانا وہ خود کہاں سے آیا؟ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہو اور جب بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو بالیقین وہ اِس طریقے سے ہٹ کر پیدا ہوا اور وہ طریقہ قرآن نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مٹی سے پیدا کیا جو انسان کی رہائش یعنی دنیا کا بنیادی جز ہے ۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ایک انسان یوں وجود میں آگیا تو دوسرا ایسا وجود چاہیے جس سے نسلِ انسانی چل سکے تو دوسرے کو بھی پیدا کیا گیا لیکن دوسرے کو پہلے کی طرح مٹی سے بغیر ماں باپ کے پیدا کرنے کی بجائے جو ایک شخص انسانی موجود تھا اسی کے وجود سے پید افرما دیا کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہوچکی تھی چنانچہ دوسرا وجود پہلے وجود سے کچھ کم تر اور عام انسانی وجود سے بلند تر طریقے سے پیدا کیا گیا یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ایک بائیں پسلی ان کے آرام کے دوران نکالی اور اُن سے اُن کی بیوی حضرت حوا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو پیدا کیا گیا ۔ چونکہ حضرت حوا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا مرد وعورت والے باہمی ملاپ سے پیدا نہیں ہوئیں اس لئے وہ اولاد نہیں ہو سکتیں ۔ (تفسیر صراط الجنان، پ۴، النساء، تحت الآیۃ : ۱، ۲ / ۱۴۰مکتبۃ المدینہ کراچی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع