کیا طوطا حلال ہے
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Mein Kon Say Pathar Jayengay Aur Kyun | جھنَّم میں کون سےپتھرجائیں گےاورکیوں؟

book_icon
جھنَّم میں کون سےپتھرجائیں گےاورکیوں؟

جواب : عاشق کی باتیں بھی عشق سے بھر پور ہوتی ہیں ۔ اِس شعر میں جان، دِل، ہوش اور خرد کو سامان قرار دیا گیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ میرا دل، جان اور ہوش  مدینے پہنچ گئے اور میں خود بھی مدینے کی یاد میں مگن ہوں، تو اے رضا! جب یہ سارا سامان مدینے جاچکا تو تیرا جسم مدینے کیوں نہیں گیا؟ چل تو بھی مدینے پہنچ جا ۔ اسی طرح کا شعر اعظم چشتی شاعر نے مدینے سے واپسی کے تعلق سے لکھا ہے :

مجھ گناہ گار سا انسان مدینے میں رہے

بن کے سرکار کا مہمان مدینے میں رہے

چھوڑ آیا ہوں دِل و جان یہ کہہ کر اعظم

آ رہا ہوں میرا سامان مدینے میں رہے

کیا طوطا حلال ہے ؟

سُوال : کیا طوطا حلال ہے ؟

جواب : طوطا حلال ہے ۔ ([1]) جانوروں کے حلال و حرام ہونے کی پہچان کا اُصول یہ ہے کہ جو جانور کیلوں (پنجوں) والا ہو اور ان کیلوں یعنی  پنجوں سے شکا رکرتا ہووہ حرام ہے ۔ ([2]) فی زمانہ طوطا کوئی نہیں کھاتا اور ابھی اس کے حلال ہونے کا ذِکر کیا ہے تو ایسا نہ ہوکہ سوشل میڈیا پر لوگ اس مسئلے کو غَلط انداز سے پیش کرنا شروع کر دیں اور کیا سے کیا بنادیں اور جہالت کی وجہ سے اپنی آخرت بَرباد  کرنے لگ جائیں ۔ واقعی ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو جہالت کے ہتھوڑے مار مار کر اپنی آخرت بَرباد کرنے پر تلا ہوتا ہے ، اگر جائز بات بھی اس کی سمجھ میں نہ آئے تو یہ لوگ اسے بھی غَلَط کہہ کر پھیلانا شروع کردیتے ہیں، جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ اگر اپنی معلومات کے مطابق کسی میں غَلَطی نظر آئے تو اس کی ڈائریکٹ اِصلاح کریں کہ ”بھائی آپ نے جو فلاں چیزکو حلال کہا ہے وہ اس اس دَلیل کے مُطابق حرام ہے “نہ کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرکے لاکھوں لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں اور بعد میں  اپنی ہی غَلَطی معلوم ہونے پر چُپ چاپ توبہ کرلیں ۔ سوچ لیجیے کہ بعد میں بھلے توبہ کرلی ہو لیکن سوشل میڈیا پر جو اُلٹی سیدھی باتیں عام ہوچکیں اس کا کیا ہوگا؟ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ شرعی مُعاملات میں کوئی کلام نہ کیا جائے کہ یہ صِرف عُلَمائے کِرام ہی کا کام ہے ۔  

سوشل میڈیا پر ہونے والے گناہ سے توبہ کا طریقہ

سُوال : اگر کسی صحیح بات کو غَلَط کہہ کر اس کا مذاق اُڑا یا اور سوشل میڈیا پر عام بھی کر دیا بعد میں معلوم ہوا کہ مجھ سے غَلَطی ہو گئی  ہے ، اب اِحساس ہو ااور توبہ کر لی تو کیا یہ توبہ کافی ہوگی؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : توبہ تو اچھی چیز ہے لیکن جو غلطی ہوئی اس کے لیے کم از کم اس کو یہ بیان ضرور دینا چاہیے کہ ”فلاں فلاں مسئلے پر میں نے جو تبصرہ کیا تھا وہ بالکل غلط تھا مجھ سے بھول ہوگئی ہے ، میں اس سے توبہ کرچکا ہوں لہٰذا جس کسی کے پاس وہ مواد ہو فوراً اسے Delete کر دے ۔ میں اپنی ان تمام غلطیوں سے توبہ کرتا ہوں جو مجھے معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں ۔ “ یاد رَکھیے ! اس طرح کی جو بھی غلطی ہوئی  ہے اس کو روکنا فرض ہے ورنہ یہ غلطی عام ہوتی جائے گی ۔ نیز اس کی توبہ بھی اسی طرح اعلانیہ کرنا ضروری ہوگا جس طرح اس کو عام کیا گیا تھا ۔ حدیثِ پاک میں ہے : اِنَّمَا السِّرُّ بِالسِّرِّ وَالْاِعْلَانِیَّۃُ بِالْاِعْلَانِیَّۃ یعنی چُھپ کر کیے ہوئے گناہ کی چُھپ کر توبہ اور اعلانیہ کی اعلانیہ ۔ “([3]) سوشل میڈیا پر جو گناہوں کا سیلاب آیا ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا، پہلے چند دوستوں کے دَرمیان گناہ ہوتا تھا اور وہیں ختم ہوجاتا تھا مگر سوشل میڈیا پر ہونے والے گناہ کو روکنا آسان نہیں ہے کیونکہ وہ آگے سے آگے بڑھتا رہتا ہے ، حتّٰی کہ بندے کا اِنتقال ہو جاتا ہے مگر اس کا گناہ سوشل میڈیا پر جاری رہتا ہے اور لوگ اس کو وائرل کرتے رہتے ہیں، کسی کو وہ  چیز جو گانے یا موسیقی اور دِیگر گناہوں پر مشتمل ہے دو سال بلکہ دس بعد بھی ملے اور اس کو پسند آجائے تو وہ اس کو وائرل کردیتا ہے  اور یوں گناہوں کا ایسا سلسلہ چلتا ہے کہ خدا کی پناہ ۔

مذہبی پوسٹ بھی چیک کروالیجیے

بعض لوگ مذہبی پوسٹ بنا کر خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں اس پر اتنے لائیکس مل گئے ، حالانکہ عُلَمائے کِرام کی جوتیوں کے صَدقے میں  میرا تجربہ ہے کہ ان میں باتیں تو اچھی لکھی ہوتی ہیں مگر ایک لفظ ایسا آجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ پوسٹ وائرل نہیں کی جاسکتی ۔ ظاہر ہے یہ غلطی بھی اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ پوسٹیں عُلَمائے کِرام کو چیک نہیں کروائی جاتیں ۔

اَحادیثِ مُبارکہ کا ترجمہ کرنا ہرکسی کے بس کا نہیں

اِسی طرح اَحادیثِ مُبارکہ کا ترجمے کرتے ہیں اور ایسا ترجمہ لکھ جاتے ہیں جو ہمارے بزرگوں میں سے کسی نے بھی نہیں کیا ہوتا ۔ عربی میں ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنیٰ ہوتے ہیں لہٰذا ضَروری نہیں ہے کہ جس کو عربی آتی ہو وہ بآسانی اَحادیثِ مُبارکہ کا ترجمہ کرلے گا بلکہ اَحادیثِ مُبارکہ کے ترجمے کے لیے ضروری ہے کہ عربی آنے کے ساتھ ساتھ اَحادیثِ مبارکہ کی شروحات پر بھی نظر ہو ۔ اسی طرح قرآنِ کریم کا ترجمہ کرنے کے لیے بھی صرف عربی آنا ضروری نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کی تفاسیر پر بھی نظر ہونا ضروری ہے کیونکہ ایسا بھی ہوتاہے کہ ہم کسی لفظ کا معنیٰ کچھ سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر ائمۂ مفسرین  رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہم نے اس کا معنیٰ کچھ اور لیا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ترجمہ کرنے والا پھنس جاتا ہے ۔ یاد رَکھیے ! ہر عالمِ دِین تفسیر اور شرح بیان کرنے کا مجاز نہیں ہوتا، ان کو بھی شروحات اور تفاسیر کی مدد سے ہی بیان کرنا ہوتا ہے کیونکہ شرح یا تفسیر کرنے کی الگ شرائط ہیں اگر کوئی عالم ہو تو ضروری



[1]   فتاویٰ مفتی اعظم، ۵ / ۱۰۹ ملتقطاً شبیر برادرز لاہور

[2]    فقیہِ اعظم ابوالخیر محمد نُورُاللہ نعیمیرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ایسا پرندہ جس میں بہنے والا خون ہو اس کی حرمت دو چیزوں سے ثابت ہوتی ہے چنگل (پنجے ) سے شکار کرنا یا مُردار خور ہونا اور طوطا نہ چنگل (پنجے ) سے شکار کرتا ہے اور نہ مُردار خور ہے لہٰذا حلال ہے ، عوام کا کہنا کہ پرندہ پنجے سے کھانے والا حرام ہے ، محض غَلَط ہے ۔ (فتاویٰ نوریہ، ۳ / ۴۱۵ ملتقطاً دار العلوم حنفیہ فریدیہ  بصیر پور اوکاڑہ )

[3]    الزھد لامام احمد ، ص۶۱، حدیث : ۱۴۱  دار الغد الجدید مصر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن