دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Mein Kon Say Pathar Jayengay Aur Kyun | جھنَّم میں کون سےپتھرجائیں گےاورکیوں؟

book_icon
جھنَّم میں کون سےپتھرجائیں گےاورکیوں؟

جب ہم ان کو اتنى آواز سے پڑھىں کہ ہمارے  اپنے کان سُن لىں ۔ نیز نماز مىں جس قدر قرآنِ کریم پڑھنا فرض ہے اس قدر قرآنِ کرىم اتنى آواز سے پڑھنا فرض ہے کہ اپنے کان سُن لىں ورنہ تو نماز ہی نہیں  ہو گى ۔ ہاں اگر کوئى بہرا ہے ىا شور شرابا  ہو رہا ہے اور اس نے  اتنے تلفظ ادا کىے کہ اگر ىہ شور شرابا  نہ ہوتا تو کان سے سُن لىتا  تب تو حرج نہىں ہے ([1])  کیونکہ شور  کى وجہ سے کان مىں آواز نہىں پہنچى ورنہ اس نے تو اپنے طور پر آواز نکالى ہے ۔

کیا مُرشِد کے اِنتقال کے بعد  کسی دوسرے پیر سے بیعت کر سکتے ہیں؟

سُوال : اگر کسى کے پىرو مُرشِد دُنىا سے پَردہ فرماگئے ہوں تو کىا وہ  کسى دوسرے پىر و مُرشد سے بىعت ہو سکتا ہے ؟

جواب : پىر اگر  کامل ہو تو وفات کے بعد  بھى اس کا فىض جاری ہوتا ہے لہٰذا اب دوسرا پىر پکڑنے کى ضَرورت نہىں ہے  البتہ اگر کوئی دوسرا پىر جامع شرائط ہو  تو اس سے  بىعت ِ برکت ہو سکتى ہے جسے ہم طالب ہونا  بولتے ہىں تو طالب ہو سکتا ہے مُرىد ایک ہی کا رہے ۔

صَلٰوةُ التَّوْبَہ کب پڑھنی چاہیے ؟

سُوال : صَلٰوةُ التَّوْبَہ کى نماز دِن مىں پڑھنی چاہیے  ىا رات مىں ؟

جواب : مکروہ اوقات کے علاوہ جب چاہىں صَلٰوةُ التَّوْبَہ پڑھ سکتے ہىں ۔ صَلٰوةُ التَّوْبَہ کى نماز نہىں کہنا چاہیے کیونکہ ”صَلٰوة“کے معنیٰ نماز ہیں تو ”صلٰوةُ التَّوْبَہ“کے معنیٰ توبہ کی نماز ہیں ۔ ممنوع ا وقات میںصَلٰوةُ التَّوْبَہ  نہىں پڑھ سکتے مثلاً عصر کے فرض پڑھ لىے تو اب نہىں پڑھ سکتے ، اسى طرح صبح ِصادق سے لے کر طلوع ِآفتاب کے دَرمىان نہىں پڑھ سکتے کہ صَلٰوةُ التَّوْبَہ نفل ہے (اور ان اوقات میں نفل پڑھنا منع ہے ) ۔

کیا مچھلی کھانا اور کانچ کے برتن میں پانى پىنا سنَّت ہے ؟

سُوال : کیا کانچ کے برتن میں پانى پىنا سنَّت سے ثابت ہے ؟نیز کىا مچھلى کھانا بھى سنَّتِ مُبارکہ ہے ؟

جواب : کانچ کے برتن مىں پانی پینا آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابت ہے ۔ ([2]) (اس موقع پر امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے  فرمایا : ) قَوَارِیْر کے الفاظ موجود ہىں لیکن اس پر سنَّت کے اِطلاق مىں کلام ہے باقى حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے کانچ کا برتن اِستعمال کرنا ثابت ہے ۔ (امیرِ اہلِ سنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اِرشاد فرمایا : ) مچھلى کھانا بھى سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے ثابت ہے ۔ ([3]) یاد رہے کہ  پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے جو عمل  اىک آدھ بار کىا ہو اسے سنَّت نہىں کہیں گے ([4]) ثابت کہىں گے ۔ اب سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے  مچھلى بار بار اِستعمال فرمائى ىہ مجھے پتا نہىں ہے البتہ اتنا پتا ہے کہ اىک بار  جَیْشُ الْخَبْط کے موقع پر حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوْ عُبَیْدَۃ بن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  نے عنبر نامی ایک بہت بڑى مچھلى  پائى جو کہ  ٹیلے کی طرح تھی ، وہ اتنی بڑی تھى کہ بىل  جتنے اس کے گوشت کے ٹکڑے بنائے گئے اور جب  اس کى ہڈىاں کھڑى کى گئىں تو اونٹ سُوار  اس کے نیچے سے گزر جاتا تھا ۔ حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوْ عُبَیْدَۃ بن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اس مچھلی کا گوشت مدىنے شریف لائے اور  سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکى خدمت مىں پیش کىا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان سے  وہ گوشت لے کر اسے نوازا اور اپنا منہ چومنے کے  اِجازت دى یعنی  اسے کھاىا([5]) تو یوں سرکار  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کے مچھلی کھانے کا مجھے  پتا ہے اس کے علاوہ کوئی اور  رِواىت ىاد نہىں اس لىے جب تک کنفرم نہ ہو جائے  مچھلی کھانے کے بارے میں لفظ ِسنَّت نہ کہاجائے  بلکہ ثابت کہا جائے ۔  

عورت کا جہرى نمازوں میں بلند آواز سے قراءت کرنا کیسا؟

سُوال : کیا عورت جہرى نمازوں میں بلند آواز سے قراءت کر سکتى ہىں؟

جواب : نمازىں چاہے سِری ہوں یا جہرى عورت آہستہ قراءت کرے گى جیساکہ علامہ شامىرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے رَدُّالْمُحْتَار مىں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ عورت  بلند آواز سے قراءت نہیں کرسکتی ۔ ([6]) البتہ تلفظ اتنی آواز سے  ادا ہونا چاہیے کہ شور شرابا کوئی رکاوٹ نہ ہو تو اپنے کانوں سے سُن سکے ۔ ([7])

ڈاکٹر، پروفیسر اور  افسران دِین کا کام کس طرح کر سکتے ہیں؟

سُوال : ہماری جب ڈاکٹرز، انجنیئرز، پی ایچ ڈی اسکالرز ، فورسز اور اکاؤنٹ کی فیلڈ سے وابستہ افراد سے ملاقات ہوتی ہے تو ان میں سے   بعض یہ چاہتے ہیں  کہ ہمىں بھى دِىن کى خدمت کرنى ہے اور اسی جذبے کے تحت آج یہ عالمی  مدنی مرکز فیضانِ مدینہ  میں ہونے والے  تربیتی اِجتماع  میں شریک ہیں تو آپ انہىں کچھ ایسے  مَدَنى پھول عطا فرما دیجیے کہ جن پر عمل کر کے یہ  اپنى زندگى مىں نىکىوں کے کام کا سلسلہ  بھى جارى رکھ سکىں ۔ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : انہوں نے مَدَنی مرکز  آنا چاہا تو  یہ یہاں پہنچ گئے ، اس کا مطلب ہے کہ اگر ىہ کچھ چاہتے ہىں تو اُسے  کر بھی سکتے ہىں ۔  نہ تو یہ زنجىروں مىں جکڑے ہوئے ہىں اور نہ ہی یہ  الگ مخلوق



[1]   بہارِ شریعت، ۱ / ۵۱۱، حصہ : ۳

[2]    سبل الهدى والرشاد، جماع ابواب آلات بيته، الباب الرابع فى آنيته واثاثه صلى الله عليه وسلم ، ۷ / ۳۶۱  دار الكتب العلمية بيروت

[3]    بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة سیف البحر...الخ،  ۳ / ۱۲۸، حدیث : ۴۳۶۲  دار الكتب العلمية  بيروت

[4]    فتاوی رضویہ، ۸ / ۱۰۸ماخوذاً

[5]    مسلم، کتاب الصید و الذبائح، باب اباحة میتة البحر، ص ۸۲۴، حدیث : ۴۹۹۸ ملخصاً  دار الکتاب العربی بیروت

[6]    رد المحتار، کتاب الصلاة،  باب صفة الصلاة، فصل فی بیان تالیف الصلاة الی انتھائھا، مطلب : فی اطالة الرکوع للجائی، ۲ / ۲۵۹ ماخوذاً

[7]    درمختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل فی القراء ة، ۲ / ۳۰۸-۳۰۹  ملتقطاً  دار المعرفة  بیروت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن