30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روٹیوں کو چُھرى سے کاٹنا کیسا؟
سُوال : شادى بىاہ کے موقع پر روٹیوں کو چُھرى سے کاٹا جاتا ہے کیا یہ دُرُست ہے ؟
جواب : شادى بىاہ کے موقع پر غالباً تافتان اور نان وغیرہ چُھری سے کاٹ کر چار ٹکڑے کر کے مہمانوں کو پیش کیے جاتے ہیں، اگر چُھری سے ٹکڑے نہ کریں تو کیا قینچی سے کریں؟ گوشت بھی تو چُھرى سے ہى کٹتا ہے اور جانور بھى چُھرى سے ہی ذَبح ہوتا ہے ۔ جب اس پر کسی کو اِعتراض نہیں تو پھر روٹى کو چُھرى سے کاٹنے پر کىا مسئلہ ہے ؟شادی میں چونکہ تھوڑا ٹیپ ٹاپ ہوتا ہے اور یہ ٹیپ ٹاپ ناجائز بھی نہیں ۔ اگر روٹی کو ہاتھ سے توڑیں گے تو صفائی میں خلل پڑے گا جبکہ چُھری سے کاٹنے میں صفائی زیادہ رہے گی لہذا مہمانوں کو زیادہ صفائی والے طریقے سے کھانا پیش کرنا اچھا ہے ۔ (اِس موقع پر نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا : ) تافتان وغیرہ روٹیوں کو کسى ڈش ىا ٹرے پر رکھ کر چُھری سے کاٹا جاتا ہے جس کا اىک فائدہ یہ بھی ہے کہ کاٹنے کے دَوران روٹیوں کے ذَرّات اسی برتن مىں گِرتے ہیں اور یوں ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں جبکہ ہاتھ سے توڑنے میں ان ذَرّات کے ضائع ہونے کا اندیشہ زیادہ ہے ۔ (امیرِِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِرشاد فرمایا : ) روٹیوں پر تِل بھی لگوائے جاتے ہیں جو کہ روٹی توڑتے وقت اِدھر اُدھر بکھر جاتے ہیں لہٰذا میرا مشورہ یہی ہے کہ روٹیوں پر تِل نہ لگوائے جائیں اور ویسے بھی یہ تل خوبصورتی کے لیے ڈالے جاتے ہیں ۔
کیا رات کو کچی پیاز کھانا نقصان دہ ہے ؟
سُوال : ہم نے سُنا ہے کہ رات کو پىاز نہىں کھانا چاہىے لیکن جب ہم رات میں ہوٹل پر کھانا کھانے جاتے ہىں تو ہوٹل والے سلاد کے ساتھ پىاز بھى دىتے ہىں اور اگر ہم پىاز نہىں کھاتے تو وہ اُٹھا کر کچرے مىں ڈال دىتے ہىں تو کىا رات کو پىاز کھانا نقصان دہ ہے ؟
جواب : رات کو پیاز کھانے سے نقصان ہوتا ہے اىسا کچھ مىرى معلومات مىں نہىں ہے البتہ رات ہو یا دِن کچى پىاز کھانے سے بچنا اچھا ہے کىونکہ اس سے مُنہ مىں بدبو ہو جاتى ہے ۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ایسی سبزىاں جن سے بدبو آتی ہے کچى نہىں کھاتے تھے لیکن انہیں کھانا جائز ہے ۔ یاد رَکھیے !نماز کے وقت مُنہ صاف ہونا ضَرورى ہے لہٰذا اگر یہ سبزیاں اىسے وقت مىں کھائیں کہ منہ مىں بد بو ہے تو مسجد کا داخلہ حرام ہے اور منہ میں بدبو کی حالت مىں گھر مىں نماز پڑھنا بھى مکروہ ہے ۔ ([1]) نیز اس طرح کى بدبودار چىزىں کھاتے ہوئے بِسْمِ اللہ پڑھنا منع ہے ۔ ([2]) ہم کھانا کھاتے ہوئے یَا وَاجِدُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پڑھتے ہیں تو کچى پىاز اور کچا لہسن جیسی چیزیں کھاتے ہوئے یہ بھی نہ پڑھا جائے ، اگرچہ یہ پڑھنا گناہ نہیں ہے لیکن بچنا اچھا ہے کہ منہ بدبودار ہے ۔
ہَزار بار بِشُوْیَمْ دَہن بَہ مُشک و گلاب
ہنوز نام تو گُفْتَن کمال بے ادبى اَست
یعنی مىں اپنے منہ کو ہزار مرتبہ مشک و گلاب سے دھو لوں تب بھى مىرا منہ اس قابل نہىں ہو گا کہ مىں اللہ پاک اور رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا نام اس سے لے سکوں ۔ اس شعر میں شاعر نے اپنى محبت کا اِظہار کىا ہے ورنہ حقیقت میں ہزار بار مشک و گلاب سے منہ دھونا مُراد نہىں ہے تو جب ہم اپنا منہ کتنا ہى صاف اور خوشبو دار کر لیں پھر بھی ہمارا منہ اس قابل نہىں ہو سکتا کہ ہم اللہ پاک اور رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا نام لے سکىں تو اب کچى پىاز اور کچا لہسن کھا کر ىہ نام لىنا خلافِ اَدب ہے اس لىے کچى پىاز اور کچا لہسن وغىرہ نہ کھاىا جائے ۔
یاد رَکھیے !شعر کے اِس حصے ”ہزار بار بشویم دہن بہ مشک وگلاب “میں اللہ پاک اور رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عظمت کا بیان ہے تو اب ایسا نہیں کہ کوئی اللہ پاک اور رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا نام لینا ہی چھوڑ دے کہ میرا منہ گندا ہے البتہ سچی بات یہی ہے کہ ہمارا منہ اللہ پاک کا نام لینے کے قابل ہو ہى نہىں سکتا مگر یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں اپنا نام لىنے کى توفىق دی ہے ۔
کیا دِل میں ذِکر کرنے سے ذِکر ماناجائے گا؟
سُوال : اگر کوئی دِل مىں ذِکر کرے جس کى آواز اس کے کان نہ سُن سکىں تو کىا وہ ذِکر مانا جائے گا جبکہ وہ رىاکاری سے بچنے کى غرض سے ایسا کررہا ہو؟
جواب : کیا ایسا شخص ریا کاری سے بچنے کے لیے نمازبھی گھر میں پڑھ لیا کرے ؟اگر ایسا ہے تو مسجدوں کا کىا کرىں گے ؟ جماعت سے نماز کون پڑھے گا؟اَحادىثِ مبارکہ مىں تو ىہاں تک آیا ہے کہ اللہ پاک کا ذِکر اس قدر کرو کہ لوگ تمہىں رىا کار کہنے لگىں ۔ ([3]) یاد رَکھیے ! رِىا کا تعلق دِل سے ہوتا ہے اور رِىا سے بچنے کے لىے عمل کو ترک کر دىنا ىہ بھى رِىا ہے ([4]) لہٰذا عمل ہرگز ترک نہ کریں بلکہ رِىا کا مقابلہ کر کے اسے ترک کریں ۔ دِل سے ذِکر کرنے کا اپنا ایک الگ طرىقہ ہے جسے ذِکْر بِالْقَلْب کہا جاتا ہے ورنہ جس ذِکر کو پڑھنا کہتے ہىں تو اس کے لیے ضَروری ہے کہ اتنى آواز سے پڑھے کہ کوئی رکاوٹ نہ ہو تو کم از کم اس کے اپنے کان سُن لىں اس لىے جو ذِکر پڑھنے کی صورت میں ہوتا ہے مثلاً نماز کے بعد 33 بار سُبْحٰنَ اللہ ، 33 بار اَلْحَمْدُلِلّٰہ اور 34 بار اَللہُ اَکْبَر یا اَللہُ اَکْبَر بھی 33 بار اور آخر مىں چوتھا کلمہ، اسی طرح آیَۃُ الْکُرْسِى اور قرآنِ پاک کی تلاوت بھى ذِکر ہے تو ىہ سب اسى صورت مىں پڑھنا کہلائىں گے کہ
[1] فتاویٰ رضویہ، ۷ / ۳۸۴
[2] رد المحتار، مقدمة، ۱ / ۳۸ دار المعرفة بیروت
[3] كنز العمال، کتاب الاذکار، الباب الاول فی الذکر وفضیلته، الجزء : ۱ ، ۱ / ۲۲۴، حديث : ۱۸۹۳-۱۸۹۴ دار الكتب العلمية بيروت
[4] احياء العلوم، کتاب ذم الجاہ والریاء، بیان الرخصة فی کتمان الذنوب...الخ، ۳ / ۳۹۵ دار صادر بيروت-احیاء العلوم(مترجم) ، ۳ / ۹۵۲ مکتبۃ المدینہ کراچی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع