30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چکناہٹ اور گوشت باقى نہ رہا ہو اور وہ بالکل خشک ہو گئی ہو وہ پاک ہے مگر اسے کھانے کى اِجازت نہىں ہے ۔ ([1]) اگر کسی نے اس طرح کی پاک ہڈی کی تسبىح بنائى تو جائز ہے لىکن حرام جانوروں کی ہڈیوں سے تسبىح بنانے پر لوگوں مىں نفرتیں پھیلیں گی اور باتىں بنىں گى مثلاً اگر کسى نے کتے کى ہڈى کی تسبیح بنائى تو لوگ بُرا بھلا کہیں گے اور حضرتِ سَیِّدُنا امام شافعى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے ماننے والوں کے ىہاں تو کتا بھی خَبِیْثُ الْعَیْن ہے ([2]) لىکن حنفىوں کے نزدیک خَبِیْثُ الْعَیْن نہىں ۔ یوں ہی اگر کسی اور گندے جانور کی ہڈی کی تسبیح بنائى تو لوگ پسند نہىں کرىں گے لہٰذا اس سے بچنا چاہىے ۔ البتہ جن جانوروں کى ہڈى سے لوگ گھن نہىں کھاتے ان کی ہڈیوں سے تسبیح بنانے مىں کوئى حرج نہىں مثلاً ہاتھی اگرچہ ىہ حرام جانور ہے بلکہ حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے نزدىک نَجِسُ الْعَیْن بھى ہے ([3]) مگر حضرتِ سَیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنىفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے نزدىک نَجِسُ الْعَیْن نہىں تو حرام جانور ہونے کے باوجود ہاتھی کے دانت کى چىزىں بنتى ہىں اور یہ قیمتی ہوتی ہیں بلکہ اس کے دانت کى نقالى ہوتى ہے اور اس سے ملتی جلتی مختلف چیزوں سے ڈىکورىشن اور سجاوٹىں کی جاتی ہے لہٰذا اگر کوئى واقعى اصل ہاتھى دانت کى تسبىح بنائے گا تو لوگ اس کو عىب نہىں سمجھىں گے بلکہ خوبى سمجھىں گے کہ ہاتھى دانت کى تسبىح ہے ۔ بہرحال نَجِسُ الْعَیْن کے علاوہ باقی حرام جانوروں کى ایسی ہڈى جس پر کسى قسم کى رطوبت اور چکناہٹ باقى نہ رہى ہو اس سے تسبیح بنانا جائز ہے ۔
گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی رَغبت پیدا کرنے کا طریقہ
سُوال : آج کل گناہ کو گناہ نہ سمجھنے کا مرض بڑھتا جا رہا ہے ۔ لوگ مسجد، گھر اور بازار مىں نزع ، قبر ، آخرت اور جہنم کى سختیوں اور عذابات کا ذِکر تو سُنتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں گناہوں سے نفرت پىدا نہىں ہوتى اور نىکىوں کى طرف رَغبت نہىں بڑھتى ۔ بے باکى اس قدر بڑھتى جا رہى ہے کہ لوگ جہاں بھى ہوں اور جىسے بھى ہو ں ان میں سے جس کا گناہ کرنے کا دِل چاہے وہ کر لىتا ہے ۔ یہ حالات دیکھ کر دِل بہت کڑھتا ہے اور یہ ذہن بنتا ہے کہ جس کو نىکى کى دعوت دى جائے وہ نىک بن جائے مگر بعض اوقات سامنے سے طنز و مزاح دىکھنے مىں آتا ہے تو اس حوالے سے راہ نمائی فرما دیجیے ۔
جواب : اىسا نہىں ہے کہ مسلمان گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے بلکہ گناہوں کى طرف ان کى توجہ نہىں ہوتی اور وہ اس طرح بے باکی کے ساتھ گناہ کر رہے ہوتے ہىں کہ گویا گناہ کو گناہ نہىں سمجھتے حالانکہ وہ گناہ کو گناہ سمجھ رہے ہوتے ہىں کىونکہ گناہ کو گناہ نہ سمجھنا بعض صورتوں مىں کُفر ہے ۔ ([4]) آج کل لوگ دلىرى کے ساتھ گناہ کر رہے ہىں اور نىکىوں کى طرف ان کی رغبت نہیں ہے اور یہ سب نفس و شیطان کی شرارتوں کی وجہ سے ہے ۔ یاد رَکھیے !گناہ کُفر کے قاصد یعنی نمائندے ہیں ۔ ہم پر نفس و شیطان کا غلبہ ہو چکا ہے جس کے باعث ہم گناہوں میں پڑے ہوئے ہیں تو گناہوں سے بچنے کے لیے ہمیں گناہوں کى ہلاکت خىزىوں کا علم ہونا چاہىے اور مُہْلِکات ىعنى جو گناہ بندے کو ہلاک اور تباہ کرنے والے ہیں ان کے بارے میں بھی پتا ہونا چاہیے کیونکہ جو گناہوں کی تباہ کارىوں سے باخبر ہو گا اسے گناہوں کا اِحساس ہو گااور پھر وہ بچنے کى کوشش بھی کرے گا ۔ عام طور پر گناہوں کی معلومات نہىں ہوتیں تو ىوں بھى بندہ گناہوں مىں پھنستا چلا جاتا ہے ۔ اسى طرح مُنْجِیَات یعنی نجات دِلانے والے اَعمال کی بھى اتنى معلومات نہىں ہوتىں جس کی وجہ سے بندہ نیکیوں کے بارے میں بھی غفلت کا شکار ہوتا ہے لہٰذا نیکیوں کی بھی معلومات حاصل کرىں اور پھر اىسے لوگوں کی صحبت اِختىار کرىں کہ جن کى باتوں سے اللہ پاک کا خوف، گناہوں سے نفرت، فکرِ آخرت اور نىکىوں کى طرف رَغبت بڑھے مگر اب اىسى صحبتىں بھى کمىاب ىعنى بہت کم رہ گئى ہىں اور بُرى صحبتىں جو گناہوں پر اُبھارنے اور گناہوں پر حوصلہ افزائى کرنے والى ہىں بہت زىادہ ہىں یہاں تک کہ گھر مىں بھى بُری صحبتىں مىسر ہىں اور کئى گھر ایسے ہیں جن میں گھر والے نىکى سے روکتے اور گناہوں پر اُبھارتے ہىں مثلاً بىٹی چاہتى ہے کہ پَردہ کرے مگر ماں باپ رکاوٹ بن جاتے ہیں یا بىٹا چاہتا ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى سنَّت داڑھی شریف اپنے چہرے پر سجائے تو ماں باپ اور بہن بھائى رکاوٹ بن جاتے ہىں ، اگرچہ ىہ ماحول ہر گھر مىں نہىں ہے لىکن اىک تعداد ہے جن کے گھروں مىں اِس طرح کا ماحول ہے ۔ اِسی طرح اگر بیٹا نماز پڑھے گا تو بولىں گے : کیا سارا دِن نماز ہى پڑھتا رہے گا؟اور اگر وہ تہجد کے لىے اُٹھے گا تو کہیں گے : رات کو اُٹھ اُٹھ کر وَظیفے پڑھتا ہے پاگل ہو جائے گا تو یوں مَعَاذَاللّٰہ نمازوں، تہجداور دِیگر نوافل سے گھر والے روکتے ہیں اور پھر مثالیں بھی دیتے ہیں کہ دیکھو ! فلاں کا دماغ ہٹ گىا اور فلاں کا دماغ ایسا ہو گیا ۔ گویا روڈوں پر جتنے پاگل پھر رہے ہوتے ہىں وہ سب کے سب مَعَاذَ اللّٰہ نمازىں اور دُرُدو شرىف پڑھ کر پاگل ہوئے ہیں ۔ مَعَاذَاللّٰہ شیطان نے لوگوں پر ایسا داؤ مارا ہے کہ اَلْاَمان ، اَلْاَمان!آپ مَدَنى اِنعامات کے مطابق عمل کرىں اور رات کو غور و فکر کر کے مَدَنی اِنعامات کا رِسالہ پُر کرنے کى عادت بنائىں اور ہر اسلامى ماہ کى پہلى تارىخ کو اپنے ذِمَّہ دار کو جمع کروائیں اور عاشقانِ رَسُول کے ساتھ مَدَنى قافلوں مىں سفر کى سعادت حاصل کرىں اِنْ شَآءَ اللّٰہ نىکىوں سے محبت اور رَغبت پیدا ہو گی اور گناہوں سے نفرت اور بچت کا سامان ہو گا ۔
سرورِ دىں لىجئے اپنے ناتوانوں کى خبر
نفس وشىطاں سىدا کب تک دباتے جائىں گے (حدائقِ بخشش)
مولانا سے شادی نہ کرنے کا مشورہ دینا کیسا؟
سُوال : جو لوگ یہ کہتے ہوں کہ مولانا سے شادى نہىں کرنی چاہیے ، یہ مارتے بہت ہىں اور بہت سخت ہوتے ہىں ۔ اىسوں کو کس طرح سمجھایا جائے ؟(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب : جس بات کا سر پىر نہ ہو اس کا کىا جواب دیا جائے ؟اگر مولانا مارتے ہىں تو مُنڈانا مار کر اور دھکے دے کر گھر سے نکال دىتے ہىں تو ا ن کا کیا کیا جائے ؟اسی طرح مُنڈانا جاگیر کی خاطر ماں باپ کو مار ڈالتے ہىں جبکہ کسى مولانا نے جاگىر کى خاطر اپنے ماں باپ کو نہیں مارا ہو گا ۔ یاد رَکھیے !میں نے لفظِ مولانا کے مقابلے لفظِ مُنڈانا بولا ہے اگرچہ یہ لغت کا لفظ نہىں ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع