30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : بعض طالبِ علم تعلیم میں کمزور ہوتے ہیں تو پڑھائی کے شوق کے لیے کچھ مَدَنی پھول بیان فرمادیجیے ۔
جواب : دُنیوی تعلیم کے لیے سارے ہی کوششیں کر رہے ہیں ۔ میڈیا، گھراور معاشرہ سب ہی دُنیوی تعلیم کے پیچھے ہیں اس کے ساتھ بھاری فیسیں بھی ادا کر رہے ہیں، مہنگی مہنگی کتابیں خرید رہے ہیں بعض تو پڑھنے کے لیے بیرون ممالک بھی جاتے ہیں تو میں کیا مَدَنی پھول دوں، اِس حوالے سے اتنے سارے پھول لگے ہوئے تو ہیں ۔ ہاں! دِینی تعلیم کے حوالے سے کافی کمزوری ہے حالانکہ دِینی تعلیم حاصل کرنے والوں کو کتابیں، کھانا اور رہائش وغیرہ سب مفت دیا جاتا ہے اس کے باوجود اس طرف لوگ نہیں آتے ۔ یوں سمجھیے کہ 100 میں سے 99فیصد لوگ دُنیوی تعلیم کی طرف جاتے ہیں اور ایک فیصد بلکہ اس سے بھی کم دِین کی طرف آتے ہیں ۔ شاید ایک ہزار پر کوئی ایک دِینی تعلیم کی طرف آتا ہوگا ۔ ان لوگوں کو مَدَنی پھول نہیں بلکہ مدنی گلدستے بلکہ پورے پورے باغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ علمِ دِین حاصل کریں ۔
حصولِ علم پر بیان کردہ فضائل صرف دِینی علم کے لیے ہیں
اَحادیثِ مُبارکہ میں حصولِ علم کے جتنے بھی فضائل بیان کیے گئے ہیں وہ سب کے سب دِینی تعلیم کے لیے ہیں ۔ ظاہر ہے علمِ دِین کے ذَریعے ہی اللہ پاک، نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور فرشتوں کے بارے میں عقائد معلوم ہوں گے اسی کے ذَریعے جنت اور دوزخ کے متعلق عقائد کا علم ہوگا بلکہ اسلام کے تمام بنیادی عقائد علمِ دِین سے ہی پتا چلیں گے ، اس کے علاوہ بہت ساری چیزیں صرف علمِ دِین سے ہی حاصل ہوں گی ۔ صرف دُنیوی تعلیم حاصل کرنے والوں کو یہ ساری معلومات کہاں ہوتی ہے بلکہ ان کے ٹیچرز کو بھی یہ معلومات نہیں ہو گی لہٰذا علمِ دِین حاصل کیا جائے ۔ جب دِین کے بارے میں کافی علم حاصل ہو جائے پھر دُنیوی تعلیم کی طرف آیا جائے لیکن فی زمانہ مسلمانوں کا سارا نظام ہی اُلٹا ہوگیا ہے ورنہ دورِ صحابہ میں مسلمان اپنے بچوں کو سورۂ ملک یاد کرواتے اور قبر کے سوالات و جوابات سکھاتے تھے لیکن اب تو خود ماں باپ کویہ چیزیں نہیں معلوم ہوتیں وہ بچوں کو کیا سکھائیں گے ، نہ ماں باپ کو اس کا علم ہے نہ نانا نانی کو نہ دادا دادی کو بلکہ اب تو تصور نہیں رہا کہ یہ چیزیں بھی کسی کو آتی ہوں نہ طالبِ علم اس بارے میں کچھ معلومات رکھتا ہے نہ ٹیچر نہ لیکچرار نہ پروفیسر نہ ڈاکٹر نہ مریض تو کون کس کو سکھائے گا؟ حالانکہ یہ چیزیں ہر مسلمان کو آنی چاہئیں لیکن عام طور پر مسلمانوں کو صحیح مسلمان کے معنیٰ بھی معلوم نہیں ہوتے ۔ یہ تو اللہ پاک کا کرم ہے کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ورنہ پتا نہیں کیا ہوتا؟میری بات کا بُرا مَت منائیے گا اور بُرا منانے والی بات بھی نہیں ہے ۔
دُنیا چاند پر لیکن مولانا کی وہی پُرانی باتیں ، کہنے والوں کو جواب
ہوسکتا ہے کسی کو میری باتیں بُری لگیں اور وہ کہے کہ دُنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور مولانا یہ کیا باتیں لے کر بیٹھا ہوا ہے ؟تو ایسی سوچ والوں سے یہی کہا جائے گا کہ میں مسلمان سے بات کر رہاہوں ۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہ! اگر تمہیں اسلام سے پیار نہیں تو میں تم سے کچھ کہہ بھی نہیں رہا ۔ مجھے اُمید ہے کسی بھی مسلمان کو میری یہ باتیں بُری نہیں لگیں گی کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لیے بات نہیں کی بلکہ مسلمانوں کی آخرت کی بہتری کے لیے بات کی ہے لہٰذا بُرا ماننے کے بجائے خوش ہونا چاہیے کہ آپ کو کوئی بتا تو رہا ہے کہ کل آخرت میں کیا چیز کام آئے گی ۔ یاد رکھیے ! اِسلام اِنسان کو دُنیوی تعلیم یا مُعاملات سے منع نہیں کرتا بشرطیکہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوں، لہٰذا حلال روزی کمائی جائے ۔ ماں باپ، بال بچوں کی خدمت کی جائے اور اپنے رہن سہن اور غذا کے لوازمات بھی کیے جائیں ۔ ہر چیز کا ایک دائرہ کار ہے اور ہمیں شریعت کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا ۔
سُوال : جماعت سے پہلے اقامت بیٹھ کر سننے کی فضیلت ہے مگر کیا پہلی صف کے لیے جلدی اُٹھا جاسکتا ہے یا بیٹھ کر ہی اقامت سنی جائے ؟ (ایک ڈاکٹر صاحب کا سوال)
جواب : اقامت میں کب اُٹھنا ہے اس کی چار صورتیں ہیں : پہلی صورت یہ ہے کہ اقامت کے وقت مقتدی مسجد میں موجود ہو اور امام اپنے مصلے پر یا اس کے قریب ہو اور اقامت امام کے علاوہ کوئی اور شخص پڑھ رہا ہو تو امام اور مقتدی سب کے لیے حَیَّ عَلَی الْفَلَاح پر کھڑا ہونا سُنَّتِ مُسْتَحَبَّہ ہے ۔ ([1]) اس صورت کو صرف سنَّت بھی کہہ سکتے ہیں اور صرف مُسْتَحَب بھی ۔ زیادہ تر مساجد میں یہی صورت پائی جاتی ہے کہ امام صاحب مصلے پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور اقامت دوسرا شخص کہہ رہا ہوتا ہے لہٰذا اس وقت حَیَّ عَلَی الْفَلَاح پر کھڑا ہونا سنَّت ہے ۔ نیز اگر یہی صورت ہو اور دورانِ اقامت کوئی مقتدی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ مسجد میں جہاں تک پہنچا ہو بیٹھ جائے اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح پر کھڑا ہو ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ امام اپنے مصلے پر یا محراب کے قریب موجود نہ ہو بلکہ دورانِ اقامت پیچھے کی طرف سے آئے تو جس صف کے پاس امام پہنچے اس صف والے نمازی کھڑے ہو جائیں ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ امام اپنے مصلے پر یا محراب کے قریب نہ ہو بلکہ دورانِ اقامت سامنے سے آئے تو جیسے ہی امام پر مقتدیوں کی نظر یں پڑیں وہ کھڑے ہو جائیں ۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ امام خود اقامت کہے اور مسجد میں موجود ہو، جب وہ اقامت سے فارغ ہو تو مقتدی کھڑے ہو جائیں ۔ ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع