30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاس اتنا علم نہیں ہوتا جو سمجھا سکے لہذا اگر ایسا ہے تو پھر بات بدلنے کی کوشش کرے ورنہ وہاں سے کتراکر نکل جائے ۔
تحریر کے معاملے میں بزرگانِ دِین کی احتیاطیں
سُوال : بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم کی تحریر کے معاملے میں کیا اِحتیاطیں تھی، اس بارے میں کچھ ارشاد فرما دیجئے ؟ ([1])
جواب : ہمارے بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ الفاظ کے اِستعمال میں بہت محتاط ہوتے تھے چنانچہ اِحیاءُ الْعُلوم کی تیسری جلد میں ہے : حضرتِ سَیِّدُنا میمون بن ابوشبیب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں بیٹھا خط لکھ رہا تھا کہ ایک حرف پر آکر رُک گیا کہ اگر یہ لفظ لکھ دیتا ہوں تو خط خوبصورت ہوجائے گا لیکن جھوٹ سے دامن نہیں بچا سکوں گا ۔ پھر میں نے وہ لفظ چھوڑنے کا عزم کرلیا کہ بھلے میرا خط خوبصورت نہ ہو مگر میں یہ لفظ نہیں لکھوں گا ۔ تو مجھے گھر کے کونے سے ندا کی گئی جس میں قرآنِ کریم کی اِس آیت کی آواز تھی : ( یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-) (پ۱۳، ابراھیم : ۲۷) ترجمۂ کنز الایمان : ”اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دُنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ۔ “([2]) یہ تو ہمارے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہم کی تحریر میں اِحتیاطیں تھی لیکن آج کل کے مضامین اور آرٹیکل میں اتنا جھوٹ ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے جاتے ہیں ۔ ایسا جھوٹ لکھنے سے بہتر ہے قلم رکھ دیں ۔
گزشتہ زمانے میں معتزلہ نامی ایک بد مذہب فرقہ گزرا ہے ان کا جاحظ نامی ایک بہت بڑا عالم تھا جب وہ مرگیا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ تیرے ساتھ کیا گزری؟ تو اس نے کہا کہ اپنے قلم سے وہی لکھو جس کو دیکھ کر تم خوش ہو جاؤ ۔ ([3]) فی زمانہ قلم سے کیا کیالکھ رہے ہوتے ہیں کچھ ہوش ہی نہیں ہوتا، نیز اس واقعے سے سوشل میڈیا اور تحریری میسج پھیلانے والے عبرت حاصل کریں کہ اپنی زبان سے وہی کہیں جو آخرت میں چھڑا سکے ، ایک ایک حرف سنبھل سنبھل کر لکھیں اور بولیں لیکن یہاں تو اتنا مبالغہ کررہے ہوتے ہیں کہ بس ۔
حمد، نعت اورمنقبت لکھنے میں اِحتیاطیں
نعت شریف ، نظم یا اَشعار لکھنے میں مزید اِحتیاط کی حاجت ہے کہ آدمی اس میں پھنس جاتا ہے کیونکہ اس کو ردیف یا قافیہ نبھانا ہوتا ہے اور اپنے مصرع کا وزن برابر رکھنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے سخت آزمائش ہوتی ہے لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ حمد اور نعت وغیرہ لکھنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ اس میدان میں بڑے بڑے شعرا جن میں نعت گو شاعر بھی شامل ہیں انہوں نے ٹھوکریں کھائی ہیں اور ایسی ایسی شرعی غلطیاں چھوڑ کر دُنیا سے رُخصت ہوئے ہیں کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ ۔ لکھنے والوں نے ان کی مثالیں تک لکھی ہیں کہ فلاں اتنا بڑا شاعر تھا ، اتنے اتنے کلام لکھے ، نعتیں بھی کہیں مگر یہ یہ غلط بات لکھ گیا ۔ یاد رَکھیے ! نعت شریف لکھنے کے لیے ضَروری ہے کہ لکھنے والا مُتصَلِّب عالِم ہو اور اس کے ساتھ ساتھ فنِّ شاعری بھی جانتا ہو اگر ایسا نہیں ہے تو کلام نہ لکھے ۔
اُمَّتِ محمدیہ کے عُلما کو بنی اسرائیل کے اَنبیا کی طرح کہنے کی وضاحت
سُوال : اس حدیث کی کوئی اصل ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ”میری اُمَّت کے علما بنی اسرائیل کے اَنبیا کی طرح ہیں“نیز اس کا مطلب کیا ہے ؟
جواب : جی ہاں!حدیث شریف ہے کہ عُلَمَاءُاُمَّتِی کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْل یعنی میری اُمت کے علما بنی اسرائیل کے اَنبیا کی طرح ہیں ۔ ([4]) حضرتِ سَیِّدُناغلام محمود غزی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنی کتاب ”حُسْنُ التَّنَبُّہ“ میں اس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کے عُلما شرعی اَحکام کو مقرر کرنے ، لوگوں کو ان کی تاکید کرنے اور ان کا حکم دینے کے مُعاملے میں بنی اسرائیل کے اَنبیا کی طرح ہیں، حدیثِ پاک کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس اُمَت کے علما مقام و مرتبے میں بنی اِسرائیل کے اَنبیا کی طرح ہیں بلکہ مقام و مرتبے میں تو بنی اسرائیل کے اَنبیا ہی بلند ہیں ۔ ([5])
یہ تو مدینہ مدینہ ہے ، یہ تو مَکَّہ مَکَّہ ہے
سُوال : بعض اوقات دِل خوش کرنے والی بات پر فوراً کہتے ہیں کہ ”یہ تو مدینہ مدینہ ہے “اور کسی جلال والی بات پر کہتے ہیں ”یہ تو مَکَّہ مَکَّہ ہے “ایسا کہنا کیسا؟ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : نَعُوْذُ بِاللّٰہ !یہ نہیں کہنا چاہیے ۔ یاد رکھیے ! مَکَّہ شریف بھی بہت زیادہ فضیلت والا شہر ہے بلکہ حضرتِ سَیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے نزدیک مَکَّہ ہی افضل ہے لیکن حضرتِ سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مدینے کو افضل قرار دیا ہے اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے بھی اسی کو اِختیار کیا ہے ۔ ([6]) مَعَاذَ اللّٰہ! اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مَکَّہ شریف کی کوئی فضیلت نہیں، یوں تو اس کی بے ادبی ہوگی ۔ کسی چیز کے پسند نہ آنے پر”مَکَّہ مَکَّہ “نہ کہا جائے کہ یہ بہت بڑی جرأت ہے اور اس کا بہت بڑی بے ادبی ہونا بھی ظاہر ہے ۔
دُنیوی تعلیم کے شوق کے لیے وَظیفہ مانگنے پر مَدَنی پھول
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[2] احیاء العلوم، کتاب آفات اللسان، بیان عظیم الخطر اللسان و فضیلة الصمت، ۳ / ۱۶۹-احیاء العلوم(مترجم) ، ۳ / ۴۱۳
[3] احیاء العلوم ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن، ۵ / ۲۶۶ -احیاء العلوم(مترجم) ، ۵ / ۶۶۲
[4] المقاصد الحسنة، حرف العین، ص۲۹۳، حدیث : ۷۰۲ دار الکتاب العربی بیروت
[5] حسن التنبه، باب التشبه بالنبیین صلوات الله وسلامه عليهم اجمعين، ۵ / ۲۷۰ دار النوادر لبنان
[6] دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مَکْتَبَۃُ الْمدینہ کی کتاب ”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت“ کے صفحہ 237 پر ہے : عرض : حضور! مدینہ طیبہ میں ایک نماز پچاس ہزار کا ثواب رکھتی ہے اور مَکَّہ مُعَظَّمہ میں ایک لاکھ کا ، اِس سے مَکَّہ مُعَظَّمہ کا افضل ہونا سمجھا جاتا ہے ؟ ارشاد : جمہور حنفیہ کایہ ہی مسلک ہے اورا مام مالک رَضیَ اللہُ عنہ کے نزدیک مدینہ افضل اور یہی مذہب امیرُ الْمؤمنین$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع