30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہے کہ جنتی عمدہ سواریوں اور اعلیٰ نسب کے جانوروں پر ایک دوسرے کی زیارت کیا کریں گے، وہ جنت میں زین اور لگام لگے ہوئے ایسے تیز رفتار گھوڑے پر آئیں گے جو نہ ہی لید کریں گے اور نہ ہی پیشاب، وہ ان پر سوار ہو ں گے یہاں تک کہ جہاں اللہ عَزَّوَجَلَّچاہے گا جائیں گے اور ان کے پاس بادل کی مثل ایسی چیز آئے گی جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا، وہ اس سے کہیں گے:’’ہم پر بارش برسا۔‘‘ تو بارش ہوتی رہے گی یہاں تک کہ ان کی تمنا و خواہش پر ہی ختم ہو گی۔
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسی ہوا بھیجے گا جو تکلیف دہ نہ ہو گی وہ ان کے دائیں بائیں مشک کے ٹیلے اڑائے گی تو وہ اپنے گھوڑوں کی پیشانیوں ،گردنوں کے بالوں اور اپنے سروں میں وہ کستوری لگا لیں گے، ہر جنتی شخص کے سر پر اس کی چاہت کے مطابق زلفیں ہوں گی، پس وہ مشک ان کی زلفوں ،کپڑوں اور گھوڑوں وغیرہ پر لگ جائے گی، پھر وہ آگے بڑھیں گے یہاں تک کہ جہاں اللہ عَزَّوَجَلَّچاہے گا جائیں گے، پھر ایک عورت ان میں سے کسی ایک کو یا عبداللہ کہہ کر پکارے گی کہ’’ کیا تمہیں ہماری ضرورت ہے ؟‘‘وہ پوچھے گا:’’تم کون ہو؟‘‘ وہ جواب دے گی:’’میں آپ کی بیوی اور محبوبہ ہوں۔‘‘ وہ کہے گا:’’مجھے تیرا مقام معلوم نہیں۔‘‘ وہ کہے گی:’’کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَاکَانُوۡایَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾ (پ۲۱،السجدہ: ۱۷)ترجمۂ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔‘‘ وہ کہے گا:’’کیوں نہیں ، یہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ کا ہی فرمان ہے۔‘‘ پھر اس جگہ کے بعد وہ اس سے 40 سال کی مسافت تک غافل رہے گانہ اس کی طرف متوجہ ہو گا اور نہ ہی واپس پلٹے گا، اسے اپنی بیوی سے غافل رکھنے والی اشیاء محض جنت کی نعمتیں اور کرامتیں ہوں گی۔‘‘ (۱)
{72}…حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مجسَّم، شاہِ بنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے ایک دوسرے سے ملنے کی رغبت کریں گے توایک کا تخت دوسرے کے تخت کی طرف اور دوسرے کا پہلے کے تخت کی طرف چلا جائے گا یہاں تک کہ دونوں ایک ساتھ جمع ہو جائیں گے پھر ایک دوسرے کے تخت پر ٹیک لگا ئے محو گفتگو ہوں گے۔ایک اپنے صاحب سے کہے گا: ’’ تم جانتے ہو اللہ عَزَّوَجَلَّنے کب تمہاری مغفرت فرمائی۔‘‘ تو دوسراکہے گا:’’ جی ہاں ! اس دن کہ ہم فلاں فلاں جگہ پر تھے ہم نے اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا کی تھی تو اس نے ہمیں معاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب صفۃ الجنۃ، الحدیث:۲۴۰،ج۶،ص۳۶۸،بتغیرٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع