30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ جَنَا الْجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾ (پ۲۷،الرحمن :۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو۔
نیز ان کے سامنے خادم ایسے ہوں گے جیسا کہ موتی ہوں۔‘‘ (۱)
دو دفعہ صور پھونکنے کی درمیانی مدّت:
{3}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے:’’دو دفعہ صور پھونکنے کا درمیانی وقفہ40سال ہے، پھر آسمان سے بارش نازل ہو گی تو انسان اس طرح نکل آئیں گے جیسے سبزہ اُگتا ہے،حالانکہ ایک ہڈی کے علاوہ انسان کے تمام اعضاء گل چکے ہوں گے اور وہ ’’عَجْبُ الذَّنَب(۲) (یعنی ایک نرم ہڈی)‘‘ ہے کہ قیامت کے دن اسی پرانسان کی تخلیق مکمل کی جائے گی۔‘‘ (۳)
{4}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’مردہ اُنہیں کپڑوں میں اُٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب صفۃ الجنۃ، الحدیث:۷،ج۶،ص۳۱۵۔
جمع الجوامع،مسند علی، الحدیث:۶۰۵۶، ج۱۳، ص۱۱۹۔
2…مفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّانمراٰۃ المناجیح ،جلد7، صفحہ355پرفرماتے ہیں : ’’عَجْبُ الذَّنَب کے لفظی معنی ہیں دم گچھ عجب بمعنی اصل ذنب۔ بمعنی دم جانور کی دم اس ہڈی کے کنارہ سے شروع ہوتی ہے اس کا نام ہے ریڑھ کی جو گردن سے شروع ہوتی ہے چوتڑ پر ختم ہوتی ہے اسی پر انسان بیٹھتا ہے یہ اس کے لیے ایسی ہے جیسے دیوار کے لیے بنیاد اگر یہاں یہ ہی ہڈی مراد ہے تو حدیث کے معنی یہ ہیں کہ یہ ہڈی جلد فنا نہیں ہوتی اسے خاک سو برس کے بعد گلاتی ہے اور اگر اس سے مراد ہیں اجزاء اصلیہ جو انسان کی جسم کی اصل ہیں تو وہ واقعی کبھی نہیں فنا ہوتے یہ ایسے باریک اجزاء ہیں جو خودربین سے بھی دیکھنے میں نہیں آتے انہیں انگریزی میں ایٹم کہتے ہیں۔ عربی میں اجزاء لا یتجزی انسان جل جاوے اسے شیر کھا جاوے اور پاخانہ بن کر اس کے پیٹ سے نکل جاوے وہ اجزاء ویسے ہی رہتے ہیں حتی کہ غذا خون نطفہ میں یہ اجزاء ہوتے ہیں انہیں اجزاء سے انسان پہلے بھی بنا تھا اور آئندہ بھی بنے گا اس لیے ہم بڈھے کو کہتے ہیں کہ یہ وہ ہی ہے جو پہلے بالشت بھر کا بچہ بلکہ نطفہ تھا وہ ہی کیسے کہا جاتا ہے انہیں اصلی اجزاء کو، یہ خوب یاد رہے زائد اجزا میں فرق ہوتا رہتا ہے کہ بیماری میں گل کر نکل جاتے ہیں آدمی دبلا ہوجاتا ہے۔ عیش میں اور اجزاء بڑھ جاتے ہیں مگر اصل اجزاء اسی طرح رہتے ہیں ۔
3…صحیح مسلم،کتاب الفتن، باب ما بین النفختین، الحدیث:۷۴۱۴، ص۱۱۹۰،’’لَا یَبْلَی‘‘بدلہ’’اِلَّا یَبْلَی‘‘۔
4…سنن ابی داود،کتاب الجنائز، باب مَا یُسْتَحَبُّ مِنْ تَطْہِیْرِ ثِیَابِ الْمَیِّتِ عِنْدَ الْمَوْتِ، الحدیث:۳۱۱۴، ص۱۴۵۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع