30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چوتھا باب:جنّت اوراُس کی نعمتیں
{1}…سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جنت کی خوشبو ہزار سال کی مسافت سے محسوس کی جائے گی لیکن والدین کا نافرمان اور قطع رحمی کرنے والا اسے محسوس نہ کر سکے گا۔‘‘ (۱)
جنتی کا استقبال اور اُس کی مہمان نوازی:
{2}… امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس آیت ِ مبارکہ کے متعلق استفسار کیا:
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾ (پ۱۶،مریم :۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان: جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی :’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وفدتو سواروں کے قافلہ کو کہتے ہیں ؟‘‘ تو شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جب متقی لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے تو انہیں ایسی سفید اونٹنیاں پیش کی جائیں گی جن کے پر ہوں گے اور ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے،ان کے جوتوں کے تسمے نور کے ہوں گے جو چمک رہے ہوں گے، ان کا ہر قدم تاحدِّنگاہ ہو گا، وہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے، وہاں سونے کی تختیوں پر سرخ یاقوت کا حلقہ ہو گا، وہاں جنت کے دروازے پر ایک درخت ہو گا جس کی جڑسے دو چشمے پھوٹ رہے ہوں گے، جب وہ ایک چشمہ سے پئیں گے تو ان کے چہروں پر نعمتوں کی تازگی آجا ئے گی اور جب وہ دوسرے سے وضو کریں گے تو ان کے بال کبھی پراگندہ نہ ہوں گے ۔
اس کے بعد وہ سونے کے تختے پر حلقہ کو ماریں گے۔ اے علی! کاش! تم اس حلقے کی آواز سنتے۔ وہ آواز ہر حور تک پہنچ جائے گی اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس کا خاوند آ گیا ہے لہٰذا وہ جلدی کرے گی اور اپنے خادم کو بھیجے گی، وہ اس کے لئے دروازہ کھولے گا، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّنے اسے اپنی پہچان نہ کرائی ہوتی تو وہ شخص نور اور رونق دیکھ کر اس خادم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… المعجم الاوسط، الحدیث:۵۶۶۴،ج۴،ص۱۸۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع