30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۴} حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۚ﴿۴﴾ (پ۳۰، اللہب:۴)
ترجمۂ کنزالایمان:لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی۔
ایک قول کے مطابق ابولہب کی بیوی(اُم جمیل بنت حرب) چغل خور تھی، لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کے لئے یہاں کی باتیں وہاں بتاتی تھی اورآیت مبارکہ میں چغلی کو لکڑی اس لئے کہا گیا کیونکہ چغلی بھی لوگوں کے درمیان اسی طرح عداوت پھیلاتی ہے جس طرح لکڑی آگ پھیلاتی ہے:
{۵} فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللہِ شَیْـًٔا (پ۲۸، التحریم:۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان:پھرانہوں نے ان سے دغاکی تووہ اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ آئے۔
کیونکہ حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بیوی(واہلہ) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مجنون کہتی تھی اور حضرت سیِّدُنا لوط عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی(واعلہ) نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مہمانوں کے بارے میں بتا دیا تھا تاکہ وہ ان سے اپنے ایجاد کردہ گندے فعل کا ارادہ کریں حتی کہ انہیں عبرت ناک عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔
{1}…حضوررحمت ِ عالم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’چغل خور جنت میں نہیں جا ئے گا ۔‘ ‘ (۱)
ایک روایت میں نَمَّام کے بجائے قَـتَّات ہے اور قتات بھی چغل خور کو کہتے ہیں۔ (۲)
ایک قول کے مطابق ، ’’نَمَّام وہ ہے جو ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو باتیں کر رہے ہوں پھر لوگوں کے سامنے ان کی چغلی کرے اور قَـتَّات وہ ہے جو لوگوں کی باتیں ان کی لا علمی میں سن کرآگے پھیلائے۔
{2}…حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِمجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک دفعہ ایسی دو قبروں کے پاس سے گزرے جن میں عذاب ہو رہا تھا تو ارشاد فرمایا:’’ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے امر کی وجہ سے نہیں ہو رہا (یعنی اگر یہ عمل کرتے تو یہ ان کے لئے مشکل نہ تھا) ہاں ،یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا جبکہ دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب بیان غلظ تحریم النمیمۃ ،الحدیث:۲۹۰،ص۶۹۵۔
2…المرجع السابق،الحدیث:۲۹۱، ص۶۹۶۔
3…صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ ،باب الدلیل علی نجاسۃ البول، الحدیث:۶۷۷،۶۷۸،ص۷۲۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع