30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کو اپنے دست ِ قدرت سے پیدا فرمایا اور اپنی طرف کی روح پھونکی اور فرشتوں کو سجدۂ (تعظیمی) کرنے کا حکم دیاتوانہوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ کو جنت میں رکھا، کیا آپ بارگاہِ الٰہی میں ہماری شفاعت نہیں فرمائیں گے؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت اور عذاب میں گرفتار ہیں ؟ یا کہیں گے کہ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس عذاب میں مبتلا ہو چکے ہیں ؟‘‘ تو حضرتِ آدم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامارشاد فرمائیں گے:’’بے شک میرا پروردگار عَزَّوَجَلَّ آج اس قدر غضب وجلال میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس قدر اس کے بعد کبھی ہو گا، اس نے مجھے درخت سے منع فرمایا تھا لیکن مجھ سے لغزش ہوگئی، نَفْسِیْ، نَفْسِیْ،نَفْسِیْ(یعنی آج تو بس مجھے اپنی جان کی فکر ہے)، میرے علاوہ کسی اور کی طرف جاؤ، حضرتِ نوح عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔‘‘
پس وہ لوگ حضرت نوح عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے:’’آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کو شکر گزار بندہ ہونے کا خطاب عطا فرمایا، کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس مصیبت میں گرفتار ہیں ؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس قدر عذاب میں مبتلا ہیں ؟‘‘ تو حضرتِ نوحعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماِرشاد فرمائیں گے :’’بے شک میرا پروردگار عَزَّوَجَلَّ آج اس قدر غضب وجلال میں ہے کہ جس قدر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا او رنہ ہی اس کے بعد کبھی ہو گا، مجھے ایک دعا کا ہی حق تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر دی تھی، نَفْسِیْ، نَفْسِیْ، نَفْسِیْ(یعنی آج تو بس مجھے اپنی جان کی فکر ہے)، میرے علاوہ کسی اور کی طرف جاؤ، حضرت ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف جاؤ۔‘‘
پس وہ حضرت ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض گزار ہوں گے :’’اے ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام! آپ زمین والوں میں سے اللہ عَزَّوَجَلَّکے نبی اور خلیل ہیں ، آپ ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحَظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس قسم کی مصیبت سے دوچار ہیں ؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس عذاب میں مبتلا ہیں ؟‘‘ تو حضرت ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامارشاد فرمائیں گے: ’’بے شک میرا پروردگار عَزَّوَجَلَّ آج اس قدر زیادہ غضب میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی ہو گا، میں نے 3 مرتبہ خلافِ واقعہ باتیں کہی تھیں اور پھر آپ انہیں ذکر کریں گے (اور کہیں گے)نَفْسِیْ، نَفْسِیْ، نَفْسِیْ(یعنی مجھے تو آج اپنی جان کی فکر ہے) لہٰذا میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت موسیٰ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس جاؤ۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع