30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے گا: ’’نہیں ! سوائے اس کے کہ میں نے اپنے بیٹے کو حکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا، پھر میں راکھ بن کر سرمے کی مثل ہو جاؤں تو مجھے سمندر کی طرف لے جانا اور ہوا میں بکھیر دینا۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا:’’تم نے یہ کیوں کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا :’’تیرے خوف سے۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا:’’اس بڑی سے بڑی سلطنت کو دیکھو، بے شک تمہارے لئے اس کی مثل اور مزید 10 گنا ہے۔‘‘ وہ عرض کرے گا:’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میرے ساتھ کیوں استہزا فرماتا ہے حالانکہ تُو تو مالک ہے ۔‘‘ اس شخص کی اس بات سے میں چاشت کے وقت مسکرا دیا تھا۔ (۱)
{32}…حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:(بروزِ قیامت)اللہ عَزَّوَجَلَّلوگوں کو جمع فرمائے گا تو مؤمنین کھڑے ہو جائیں گے یہاں تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی، وہ حضرت آدم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے :’’اے ہمارے باپ! ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھلوایئے۔‘‘ وہ جواب دیں گے:’’تمہارے والدکی ہی خطا(اجتہادی) نے تمہیں جنت سے نکالا ہے، میرا یہ مقام نہیں ، پس میرے بیٹے حضرت ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس جاؤ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی یہی فرمائیں گے:’’میرا یہ مقام نہیں ، میں تو دور کا دوست ہوں ، حضرت موسیٰ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس جاؤ کہ جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّنے کلام فرمایا۔‘‘ حضرت موسیٰ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی یہی فرمائیں گے:’’میرا یہ مقام نہیں ،حضرت عیسیٰ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس جاؤ کہ وہکَلِمۃُ اللہ اور رُوحُ اللہ ہیں۔‘‘ لیکن حضرت عیسیٰ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی ارشاد فرمائیں گے: ’’میرا یہ مقام نہیں ، حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس جاؤ۔‘‘
چنانچہ، لوگ میرے پاس حاضرہوں گے ،میں بارگاہِ الٰہی میں کھڑا ہوں گا تومجھے(شفاعت کی) اجازت دی جائے گی پھر امانت اور رشتہ داری لائی جائیں گی، وہ دونوں پل صراط کے دائیں بائیں کھڑی ہو جائیں گی اور تم میں سے پہلا اُچکنے والی بجلی کی سی تیزی سے گزر جائے گا۔ راوی فرماتے ہیں : میں نے عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قربان! کون سی چیز بجلی کی طرح ہو گی؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث:۱۵،ج۱،ص۲۰ تا۲۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع