30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاس چلے جاؤ:
اِنَّ اللہَ اصْطَفٰۤی اٰدَمَ وَنُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ﴿ۙ۳۳﴾ (پ۳، آل عمران: ۳۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اولاد اور عمران کی آل کو سارے جہاں سے۔
اس کے بعد وہ حضرت نوحعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’’اے نوحعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ! آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو منتخب فرمایااور آپ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی دعاقبول فرمائی اور زمین پر کافروں کو نہ چھوڑا۔‘‘ تو وہ ارشاد فرمائیں گے : ’’تمہارے اس مسئلے کا حل میرے پاس نہیں ، تم حضرت ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس جاؤ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں اپنا خلیل بنایا۔‘‘
وہ حضرت ابراہیم عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس حاضر ہوں گے تو وہ ارشاد فرمائیں گے:’’تمہارے اس مسئلے کا حل میرے پاس نہیں ، حضرت موسیٰ عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس جاؤ ، اللہ عَزَّوَجَلَّنے اُن سے کلام فرمایا۔‘‘ وہ حضرتِ موسیٰعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس حاضر ہوں گے تو وہ بھی ارشاد فرمائیں گے:تمہارے اس مسئلے کا حل میرے پاس نہیں ، حضرتِ عیسیٰ بن مریمعَلَـــیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس جاؤ،وہ کوڑھی اور برص کے مریضوں کو شفا دیتے اور مردوں کو زندہ فرماتے تھے، لیکن وہ بھی ارشاد فرمائیں گے:تمہارے اس مسئلے کا حل میرے پاس نہیں ، تم اولادِ آدم کے سردار حضرتِ محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس چلے جاؤ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی وہ ہستی ہیں جن کے لئے قیامت کے دن سب سے پہلے زمین (یعنی قبر) شق ہو گی، پس حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں جاؤ وہ تمہاری تمہارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں شفاعت فرمائیں گے۔
راوی فرماتے ہیں کہ لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آئیں گے تو حضرت سیِّدُناجبریل عَلَـــیْہِ السَّلَام پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے اذنِ شفاعت اور بشارتِ جنت کے متعلق عرض کریں گے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَـــیْہِ السَّلَامآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت ِ عالیشان میں یہ خوشخبری لے کر حاضر ہوں گے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک ہفتے (یعنی 7 دن) کی مقدار حالت ِ سجدہ میں پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں رہیں گے، اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا: ’’اے محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! اپنا سر اٹھائیے ،کہئے آپ کی بات سنی جائے گی، شفاعت کیجئے آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع