30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{24}… شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’میں نے دیکھا کہ میری اُمَّت میرے بعد جس حال میں بھی ہو گی ایک دوسرے کا خون بہائے گی تو میں غمگین ہو گیا کہ یہ بات اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے طے تھی جس طرح سابقہ امتوں میں تھی، لہٰذا میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّسے سوال کیا کہ وہ مجھے قیامت کے روز مقامِ شفاعت عطا فرمائے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے وہ مقام عطا فرما دیا۔‘‘ (۱)
{25}…اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے آج رات 5 خصوصیات عطا کی گئیں کہ جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔‘‘ یہاں تک کہ ارشاد فرمایا: ’’پانچویں یہ کہ مجھ سے فرمایا گیا: ’’سوال کر کیونکہ ہر نبی نے سوال کیا۔‘‘ تو میں نے اپنا سوال قیامت کے دن کے لئے مؤخر کر دیا اور وہ تمہارے اور اس کے لئے ہے جس نے گواہی دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ (۲)
{26}… عرض کی گئی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سلطنت جیسی سلطنت کا سوال نہیں کیا؟‘‘ توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرا دئیے اور پھر ارشاد فرمایا:’’شایداللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک تمہارے دوست کے لئے حضرت سلیمانعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سلطنت سے افضل سلطنت ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّنے جو بھی نبی بھیجا اسے ایک مقبول دعا عطا فرمائی، ان میں سے جس نے دنیا ہی میں وہ دعا مانگ لی اسے دنیا ہی میں عطا فرما دی گئی اور جس نے اپنی قوم کے خلاف دعا کی جب انہوں نے اس کی نافرمانی کی تو انہیں ہلا ک کر دیا گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے بھی دعا عطا فرمائی تو میں نے اسے قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کررکھا ہے۔‘‘ (۳)
اختیاراتِ مصطفی:
{27}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ ابھی ابھی مجھے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے کس چیز کی خبر دی؟‘‘ ہم نے عرض کی: ’’جی ہاں ! یارسول اللہ صَلَّی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المسند للامام احمد بن حنبل، ومن حدیث ام حبیبۃ، الحدیث:۲۷۴۷۹،ج۱۰،ص۳۹۶۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمروبن العاص، الحدیث:۷۰۸۹،ج۲،ص۶۸۷،۶۸۸۔
3…المُصَنَّف لابن أبی شیبۃ،کِتاب الْفَضَائِلِ، باب مَا اَعْطَی اللہُ مُحَمَّدًاﷺ، الحدیث:۱۰۲،ج۷،ص۴۳۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع