30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’جتنا عدن سے عمان کے درمیان فاصلہ ہے بلکہ اس سے بھی وسیع۔‘‘ اور اپنے دستِ اقدس سے اشارہ فرمارہے تھے کہ اس میں پانی بہنے کے دو راستے ہیں۔ (۱)
{7}… ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’اس حوض پر سب سے پہلے پراگندہ سر اور میلے کچیلے کپڑوں والے مہاجرین فقرا آئیں گے،جو امیر عورتوں سے نکاح نہ کر سکے اور نہ ہی ان کے لئے بادشاہوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔‘‘ (۲)
{بکھرے بال آزُردہ صورت، ہوتے ہیں کچھ اہلِ محبت
بدرؔ مگر یہ شان ہے اُن کی، بات نہ ٹالے ربُّ العزَّت }
{8}…حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’میرے حوض کی وسعت عدن اور عمان کے درمیانی فاصلے جتنی ہے، جو برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے، اس کے پیالے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں ، جس نے اس سے ایک گھونٹ پی لیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا، اس پر سب سے پہلے مہاجرین فقرا آئیں گے۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کون لوگ ہیں ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جن کے سرپراگندہ، چہرے بھوک سے مرجھائے ہوئے اور کپڑے میلے کچیلے ہوتے ہیں ، جن کے لئے بادشاہوں کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور نہ ہی وہ حسن ودولت والی عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں ،ان سے تما م حقوق تو لئے جاتے ہیں لیکن ان کے تمام حقوق دئیے نہیں جاتے۔‘‘ (۳)
{9}…حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عظمت نشان ہے:’’جنت سے حوض میں دو پرنالے بہتے ہیں ان میں سے ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا ہے۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی امامۃ الباہلی، الحدیث:۲۲۲۱۸،ج۸،ص۲۷۲۔
2…المرجع السابق، حدیث ثوبان، الحدیث:۲۲۴۳۰،ص۳۲۱۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب، الحدیث:۶۱۷۰،ج۲، ص۴۹۱۔
4…صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب اِثبات حوض نَبِیِّنَاوصفاتہ، الحدیث:۵۹۹۰،ص۱۰۸۵،بتغیرٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع