30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پنڈلیوں اور گھٹنوں تک آگ پہنچ چکی ہو گی، وہ عرض کریں گے :’’اے ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تو نے جن کا ہمیں حکم دیا تھا ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچا۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :’’لوٹ جاؤ اور جس کے دل میں ایک دینار کے برابر نیکی پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال دو۔‘‘ لہٰذا کثیر مخلوق کو باہر نکالیں گے اور عرض کریں گے :’’اے ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! جن کے نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہ چھوڑا۔‘‘
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :’’لوٹ جاؤ اور جس کے دل میں نصف دینار کی مثل نیکی پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ۔‘‘ وہ کثیر مخلوق کو باہر نکالیں گے، پھر عرض کریں گے :’’اے ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! جن کے نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہ چھوڑا۔‘‘ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :’’لوٹ جاؤ اور جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی نیکی پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ۔‘‘ وہ کثیر مخلوق کو باہر نکالیں گے پھر عرض کریں گے: ’’اے ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! ہم نے جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں چھوڑا جس میں کچھ بھی بھلائی موجود تھی ۔‘‘
اس حدیث ِ پاک کے راوی حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : اگر تم میری (بیان کردہ) اس حدیث ِ پاک کی تصدیق نہیں کرتے تو اگر چاہو تو یہ آیت ِ مبارکہ پڑھ لو:
اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنۡ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ (پ ۵،النساء :۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دُونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :’’فرشتے ،انبیا اور مؤمنین شفاعت کر چکے اب (گناہ گاروں کے لئے) سوائے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن کے کوئی باقی نہ بچا۔‘‘ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ (اپنی شایانِ شان) مٹھی بھر کر لوگوں کو جہنم سے نکال لے گا کہ جنہوں نے اصلًا کوئی نیکی نہ کی ہو گی اور وہ لوگ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو جنت کے دروازہ پر آبِ حیات کی نہر میں غوطہ دے گا اور وہ اس نہر سے تروتازہ ہو کر نکلیں گے جیسے سیلا ب کی مِٹی میں سے دانہ اُگ پڑتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو دانہ پتھر یا درخت کے پاس آفتاب کے رُخ پر ہوتا ہے زرد یا سبز رنگ کا پودا بن جاتا ہے اور جو دانہ سائے کی جانب ہوتا ہے اس کا پودا سفید رنگ کا ہوتا ہے؟صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْننے عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! (آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو زرعی معاملات ایسے بیان فرما رہے ہیں ) گویا کہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجنگلوں میں جانور چراتے رہے ہوں۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع