30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گا۔مگر اس کا معنٰی یہ نہیں کہ اس کی غیبت جائز ہوجائے گی کیونکہ اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ہے اور کسی چیز کے پائے جانے سے پہلے اس کا مباح کرنا ہے۔ اسی بنا پر دنیا میں حق ساقط نہ ہو گا۔ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ’’جس شخص نے اپنے حق میں گالی کو مباح کر دیا حدِّقذف سے اس کا حق ساقط نہ ہوگا نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں۔کِتَابُ الشَّہَادَات، توبہ کی بحث میں اس کے متعلق تفصیلی کلام کیا جائے گا۔
۞۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر250: بُرے ناموں سے پکارنا
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید، فرقانِ حمید میں ارشادفرماتا ہے : وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقٰبِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمٰنِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾ (پ۲۶، الحجرات: ۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان :اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھوکیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکرفاسق کہلانااورجوتوبہ نہ کریں تو وہ ہی ظالم ہیں۔
تنبیہ:
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسے غیبت سے الگ قسم شمار کیا ہے مگر ان کی یہ بات محلِ نظرہے کیونکہ یہ بھی غیبت کی ایک قسم ہے جیسا کہ گزشتہ بحث سے معلوم ہو چکا ہے۔ گویاانہوں نے آیت ِمبارکہ کے اسلوب کی پیروی کی ہے کیونکہ اس میں برے ناموں سے پکارنے اور غیبت میں سے ہر ایک کو الگ الگ ذکر کیا گیا ہے، لہٰذا یہ آیت ِ مقدسہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ا ن دونوں (یعنی غیبت اور برے ناموں سے پکارنے) کے درمیان فرق ہے۔ ہاں ! اگریہ جواب دیا جائے کہ بُرے ناموں سے پکارنا مذکورہ غیبت سے ہی ہے مگر اس کو علیحدہ ذکر کرنا اس وجہ سے ہے کہ یہ اس کی سب سے بری قسموں میں سے ہے اور اس کو علیحدہ ذکر کرنے سے مقصود اس کی قباحت بیان کرنا اور اس سے روکنے میں مبالغہ کرنا ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام محیُّ الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) کی کتاب’’اَ لْاَذْکَا ر‘‘ میں ہے: ’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی انسان کو ایسا لقب دینا حرام ہے جسے وہ ناپسند کرتا ہو خواہ وہ (برا لقب) اس کی صفت ہو یا اس کے ماں باپ کی یا کسی اور کی۔‘‘(۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الأذکار للنووی ،کتاب الأسماء ،باب النہی عن الألقاب التی یکرہہا صاحبہا ،ص۲۳۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع