30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے گا:’’میرے خیال میں تم یقینا فرشتے ہو۔‘‘ وہ کہے گا:’’میں تو آپ کے خزانچیوں میں سے ایک خزانچی اور خدّام میں سے ایک خادم ہوں ، میرے ماتحت میرے جیسے ہی ایک ہزار خزانچی ہیں۔‘‘ چنانچہ، وہ اس کے آگے آگے چلے گا یہاں تک کہ اس کے لئے محل کا دروازہ کھولا جائے گا جو ایک ہی موتی کا ہو گا اور اس کی چھتیں ، دروازے، تالے اور چابیاں بھی موتیوں سے تراشیدہ ہوں گے، اس کے سامنے کا محل سبز ہو گا جو اندر سے سرخ ہو گا، اُس کے 70 دروازے ہوں گے، ہر دروازہ اندر سے سبز محل کی طرف کھلے گا، ہر محل دوسرے محل کی طرف کھلے گا کہ جس کا رنگ مختلف ہو گا، ہر محل میں تخت، بیویاں اور نوعمرخادمائیں ہوں گی جن میں سب سے کم حسین بڑی بڑی آنکھوں والی حور ہو گی، اُس پر 70 حُلّے ہوں گے، اس کے حلوں کے اندر سے اس کی پنڈلی کا گودانظر آئے گا، اِس کا سینہ اُس کے لئے اور اُس کاسینہ اِس کے لئے آئینہ ہو گا، جب وہ اُس سے منہ پھیرے گا تو اُس کی آنکھوں کے حسن میں پہلے سے 70 گنا اضافہ ہو جائے گا، وہ اُس سے کہے گا:’’خدا کی قسم! تو میری آنکھوں میں 70 گنا زیادہ حسین نظر آرہی ہے۔‘‘ تو وہ جواب دے گی: ’’بے شک آپ بھی میری آنکھوں میں 70 گنا زیادہ حسین نظرآرہے ہیں ۔‘‘ پھر اسے کہا جائے گا: ’’نیچے جھانک۔‘‘ وہ نیچے دیکھے گا، تو اسے کہا جائے گا:’’تیری سلطنت 100 سال کی مسافت تک ہے جہاں تک تیری نگاہ پہنچتی ہے۔‘‘
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب یہ حدیثِ پاک حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سنی توحضرت سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:’’اے کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ! کیا آپ نہیں سن رہے کہ اُمّ عبد کے بیٹے(حضر ت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) ہمیں ادنیٰ جنتی کے متعلق کیا بتا رہے ہیں (جب ادنیٰ جنتی کا یہ مقام ہے) تو پھر اعلیٰ جنتی کا مقام کتنا بلند ہو گا؟‘‘ تو انہوں نے عرض کی:’’اے امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ! اعلیٰ جنتی کا مقام وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔‘‘ اور اس کے بعد انہوں نے بھی ایک حدیث ِ پاک ذکر کی۔ (۱)
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۹۷۶۳،ج۹، ص۳۵۸تا۳۶۰۔
المستدرک،کتاب الاھوال، باب تقسیم النور علی قدر اعمالھم، الحدیث:۸۷۸۹،ج۵،ص۸۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع