30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہوئے اس سے معافی مانگتا رہے تاکہ وہ اسے معاف فرما دے اور وہ غیبت کی نحوست سے نکل جائے۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے: ’’غیبت سے بری ہونے کے لئے استغفار کافی ہے۔‘‘ اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس کی تو نے غیبت کی اس کا کفارہ یہ ہے کہ تو اس کے لئے استغفار کرے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اس کا کفارہ یہ ہے کہ آپ اس کی تعریف کریں اور اس کے لئے بھلائی کی دعا کریں۔‘‘ (۲)
صحیح یہ ہے کہ’’غیبت کرنے والے کا اپنی غیبت سے بری ہونا ضروری ہے۔‘‘
اعتراض: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ عزت کا کوئی عوض نہیں لہٰذا جس کی غیبت کی اس سے معافی مانگنا واجب نہیں بخلاف مال کے کیونکہ اس کا عوض ہوتا ہے اس لئے صاحب ِ مال سے معافی مانگی جاتی ہے۔
جواب:ان کا یہ گمان مردود ہے کیونکہ عزت کے معاملے میں حد ِقذف واجب ہے لہٰذا عزت پامال کرنے کی صورت میں بھی اس سے معافی مانگی جائے گی بلکہ احادیث ِ صحیحہ میں ظلم سے اپنی برا ء ت حاصل کرنے کا حکم ہے اس دن سے پہلے کہ جس دن کوئی درہم ہوگا نہ دینار۔ بلکہ ظالم کی نیکیاں ہوں گی جو مظلوم کو دی جائیں گی اور مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔ پس اس طرح معافی طلب کرنا متعین ہوگیا۔
البتہ! میت اور غائب کے لئے کثرت سے دعا و استغفار کرنی چاہئے اور جس سے معافی مانگی جائے اس پر معاف کرنا مستحب ہے لازم نہیں ، کیونکہ یہ اس کی طرف سے نیکی اور احسان ہے۔اسلاف کا ایک گروہ اپناحق مباح کرنے سے منع کرتا تھا۔ بہرحال درج ذیل حدیث ِ پاک پہلے مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ،
{85}…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’کیا تم میں سے کوئی ابوضمضم کی طرح نہیں ہو سکتا کہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے: ’’بے شک میں نے اپنی عزت لوگوں پر صدقہ کر دی۔‘‘ (۳)
حدیث ِ پاک کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو میں اس سے ظلم کا بدلہ لوں گا اور نہ ہی قیامت کے دن اس سے جھگڑا کروں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ، باب کفارۃ الاغتیاب، الحدیث: ۱۵۵،ج۴، ص۴۱۷۔
2…احیاء علوم الدین ،کتاب آفات اللسان ،الآفۃ الخامسۃ عشرۃ الغیبۃ ،بیان کفارۃ الغیبۃ ،ج۳،ص۱۹۰،قول مجاہد۔
3…سنن ابی
داود،کتاب الادب ،باب ماجاء فی الرجل یحل…الخ،الحدیث:۴۸۸۶،ص۱۵۸۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع