30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دن سورج مخلوق کے اس قدر قریب ہو گا کہ ایک میل کی مقداررہ جائے گا۔‘‘حضرت سیِّدُنا سلیم بن عامر عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر فرماتے ہیں :’’خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مِیْل سے زمین کی مسافت مراد ہے یاآنکھوں میں سرمہ ڈالنے والی سلائی۔‘‘ اور پھر ارشاد فرمایا:’’ لوگ اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، ان میں سے بعض کے ٹخنوں تک ، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی کمر تک ہو گا اور کسی کے منہ میں پسینہ لگام دیئے ہو گا ۔‘‘راوی فرماتے ہیں : یہ ارشاد فرماتے ہوئے دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دست ِ اَقدس سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔‘‘ (۱)
{13}… ایک روایت میں ہے:’’پسینہ بعض کی نصف پنڈلی تک پہنچے گا، بعض کے گھٹنوں تک، بعض کی پیٹھ تک، بعض کے کولہوں تک، بعض کے کندھوں تک، بعض کی گردن تک اور بعض کے منہ تک پہنچے گا۔‘‘ (راوی فرماتے ہیں :) آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دستِ اقدس سے منہ کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے منہ میں لگام ڈالے ہو گا اور (پھر فرمایا:) ’’کسی کو اس کا پسینہ ڈھانپ لے گا۔‘‘ (۲)
{14}… حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ’’جب سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ابن آدم کو پیدا فرمایا اس نے اپنے اوپر موت سے زیادہ شدید چیز کوئی نہیں دیکھی، پھر یقینا موت اپنے بعد (کی تکلیفوں ) سے زیادہ آسان ہے ، بے شک وہ قیامت کے دن کو اس قدر ہولناک پائیں گے کہ پسینہ انہیں لگام ڈالے ہوگا یہاں تک کہ اگر کشتیاں اس میں چلائی جائیں تو چل پڑیں۔‘‘ (۳)
{15}…اللہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب ، منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:قیامت کے دن پسینہ انسان کے منہ کو لگام ڈالے ہو گا تو وہ عرض کرے گا:’’اے رب عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اگرچہ جہنم میں ڈال دے مگر اس سے راحت دے دے۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب الجنۃ، بَاب فِی صِفَۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اَعَانَنَا اللہُ عَلٰی اَہْوَالِہَا، الحدیث:۷۲۰۶،ص۱۱۷۴۔
2…المستدرک،کتاب الا ھوال، باب تَدْنُو الشَّمْسُ مِنْ الْاَرْضِ فَیَعْرَقُ النَّاسُ…الخ،الحدیث:۸۷۴۴،ج۵،ص۷۸۹۔
3…المعجم الاوسط، الحدیث:۱۹۷۶،ج۱،ص۵۳۵۔
4…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۰۸۳،ج۱۰،ص۱۰۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع