30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ اس کی تصدیق یا تکذیب کی طرف مائل ہو جائیں تو آپ مخبر عنہ(یعنی جس کے متعلق خبر دی گئی) کے بارے میں برا اعتقاد رکھنے کی وجہ سے یا مخبر (یعنی خبر دینے والے) کے بارے میں جھوٹ کا اعتقاد رکھنے کی وجہ سے ان دونوں باتوں میں سے ایک (یعنی تصدیق یاتکذیب کرنے) پر گنہگار ٹھہریں گے۔ لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ خبر دینے والے کے بارے میں تفتیش کر لیں کہ آیا ان دونوں کے درمیان کسی قسم کی عداوت کی وجہ سے یہ تہمت تو نہیں ہے، اگران میں عداوت پائیں تو توقف فرمائیں اور جس کے بارے میں خبر دی جارہی ہے اس کا جو مرتبہ اس بدگمانی سے قبل آپ کے دل میں تھا اسے اسی حال پر باقی رکھیں اور جسے لوگوں کے متعلق ایسی باتیں کرنے کی عادت ہواس کی طرف توجہ نہ دیں۔
چاہئے تو یہ کہ جب بھی آپ کے دل میں کسی مسلمان بھائی کے بارے میں برا خیال آئے تو اس کے لئے بھلائی کی دعا کریں تا کہ شیطان کو غصہ آئے اور وہ اس دعا کی وجہ سے آپ کے دل میں برا خیال ڈالنے سے باز آ جائے اور جب آپ کو کسی مسلمان کی لغزش کاپتہ چلے تو اسے گناہ سے بچانے کے لئے تنہائی میں نصیحت کریں اور وہ جس مصیبت کا شکار ہوا اس پر اسی طرح غم کا اظہار کریں کہ اگر وہی مصیبت آپ کو پہنچتی تو آپ غمگین ہو جاتے تا کہ آپ نصیحت ، غم کے اجر اور اس کے دین پر اس کی مدد کرنے کا ثواب اکٹھا کر سکیں۔
تجسس:
بدگمانی کے نتائج میں سے ایک’’ ٹوہ میں پڑنا‘‘ بھی ہے کیونکہ دل گمان کو ہی کافی نہیں سمجھتا بلکہ یقین چاہتا ہے لہٰذا وہ ٹوہ میں پڑ جاتا ہے۔ تجسس کی ممانعت پیچھے گزر چکی ہے اور تجسس یہ ہے کہ وہ مخلوق کو اس کے راز میں نہ رہنے دے لہٰذا وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ آپ کو ایسی بات کی خبر دے کہ اگر وہ آپ سے پوشیدہ رہتی تو آپ کے دل اور دین کے لئے زیادہ سلامتی تھی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے ایک ہی آیت میں غیبت کے ساتھ بدگمانی کو بھی جمع کر دیا ہے کیونکہ یہ عام طور پر ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہیں۔
تنبیہ9:
غیبت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ جلدی تمام شرائط کے ساتھ توبہ کرے، اسے قطعی طور پر ترک کر دے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف سے ندامت کا اظہار کرے تا کہ اسکے حق سے بری ہو جائے۔ پھر بھی غیبت کرنے والا اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع