30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف متوجہ تھا۔‘‘ اور عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا، پھر ان کے پاس انسانی صورت میں ایک فرشتہ آیا اور انہوں نے اسے اپنے درمیان حَکم(یعنی فیصلہ کرنے والا) بنا لیا، اس نے کہا: ’’دونوں زمینوں کی پیمائش کرو،یہ جس زمین کے زیادہ قریب ہو گا اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہو گا۔‘‘ جب انہوں نے زمین کی پیمائش کی تو وہ اس زمین کے زیادہ قریب تھا جہاں جانے کا اس نے ارادہ کیا تھا، پھر رحمت کے فرشتوں نے اُسے لے لیا۔ (۱)
{23}… ایک روایت میں ہے کہ ’’وہ نیک لوگوں کی بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا تو اسے انہی میں سے کر دیا گیا۔‘‘ (۲)
{24}… ایک اور روایت میں ہے کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِس زمین سے (جہاں سے جا رہا تھا) ارشاد فرمایا کہ دور ہو جا اور اُس زمین سے (جس طرف جا رہا تھا) ارشاد فرمایا کہ قریب ہو جا اور اس کے بعد ارشاد فرمایا:’’دونوں کے درمیان پیمائش کرو، انہوں نے اسے نیک لوگوں کی بستی کے ایک بالشت قریب پایا تو اسے بخش دیا گیا۔‘‘ (۳)
{25}…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہکی روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے کہ ’’ہمیں بتایا گیا کہ جب موت کا فرشتہ آیا تو اُس نے اپنا سینہ نیک لوگوں کی بستی کی طرف پھیردیا۔‘‘ (۴)
{26}… حضورنبی ٔکریم، رء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ایک شخص نے بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کیا تھا پھر وہ ایک شخص سے ملا اور کہا کہ میں نے 99 لوگوں کو ظلماً قتل کیا ہے، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ تواس نے اسے بھی قتل کر دیا۔پھر ایک دوسرے شخص کے پاس جا کر اسے کہا میں نے 100آدمی ظلماً قتل کئے ہیں ، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ تو اس نے کہا:’’اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں فرماتا تو میں تم سے جھوٹ بولوں ، فلاں جگہ کچھ ایسے بندے رہتے ہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں۔ تم ان کے پاس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل وإن کثر قتلہ، الحدیث:۷۰۰۸،ص۱۱۵۷۔
2…المرجع السابق، الحدیث:۷۰۰۹۔
3…صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ۵۴،الحدیث:۳۴۷۰،ص۲۸۳۔
4…صحیح مسلم،کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل وإن کثر قتلہ، تحت الحدیث:۷۰۰۸،ص۱۱۵۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع