30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{83}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمان کا خون اور مال حرام قرار دیا ہے اور یہ (بھی حرام ٹھہرایا ہے) کہ کسی مسلمان کے بارے میں برا گمان کیا جائے۔‘‘ (۱)
اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے لئے کسی مسلمان کے متعلق بد گمانی جائز نہیں مگر یقینی مشاہدہ یا کسی عادل کی گواہی سے جیساکہ ایسی صورت میں مال لینا جائز ہے۔ ورنہ خیرو شر کے احتمال کی وجہ سے حتی الامکان کسی مسلمان کے متعلق اپنی اس بدگمانی کو دور کرنے کی پوری کوشش کریں۔
حقیقی بد گمانی کی علامت:
حقیقی بد گمانی کی علامت یہ ہے کہ کسی کے بارے میں آپ کا دل تبدیل ہو جائے یعنی محبت نفرت میں بدل جائے، آپ اسے بوجھ سمجھیں اور اس کی سہولیات میں کمی کر دیں۔ چنانچہ،
{84}…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’مومن میں تین برائیاں ایسی ہیں جن سے وہ چھٹکارہ حاصل کر سکتا ہے اور بد گمانی سے نکلنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر اپنا دل پختہ نہ کرے۔‘‘ (۲)
یعنی بدگمانی جس بات کا تقاضاکر رہی ہے وہ اس پر دل کو نہ جمائے کیونکہ یہ چیز اس کے دل کو محبت سے نفرت و ناپسندیدگی کی طرف پھیر دے گی اور نہ ہی اعضاء کے کسی فعل سے بدگمانی کا موجب عمل کرے۔ شیطان کبھی کبھار اپنے کسی ادنیٰ سے فریب کے ذریعے دل میں لوگوں کی برائی راسخ کر دیتا ہے اور یہ وسوسہ پیداکرتارہتاہے کہ یہ تو آپ کی انتہائی ذہانت وفطانت اور بیدار مغزی کے باعث ہے اورمومن تو اللہ عَزَّوَجَلَّکے نور سے دیکھتا ہے۔ حقیقت میں وہ شیطان کے دھوکے اور تاریکی سے دیکھنے والا ہوتاہے۔ جب آپ کو کوئی عادل شخص کسی قسم کی کوئی خبر دے اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…قائم نہ کریں گے کہ ہوسکتا ہے حالت ِ اضطراریا اکراہ میں پی ہو مگر بو یا نشہ کی صورت میں تعزیر کریں گے جبکہ ثبوت نہ ہو۔ اور اس کا ثبوت دو مردوں کی گواہی سے ہوگا اور ایک مرد اور دو عورتوں نے شہادت دی تو حد قائم کرنے کے لئے یہ ثبوت نہ ہوا۔‘‘(بہارِ شریعت،حصہ۹،ج۲ ص۳۹۱)
1…شعب الایمان للبیھقی ،باب فی تحریم أعراض الناس، الحدیث:۶۷۰۶،ج۵،ص۲۹۷،بتغیرٍقلیلٍ۔
2…احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان ،الآفۃ الخامسۃ عشرۃ الغیبۃ ،بیان تحریم الغیبۃ،ج۳،ص۱۸۶۔
المعجم الکبیر، الحدیث:۳۲۲۷،ج۳،ص۲۲۸،مفہوماً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع