30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا معاذ کو وصیت:
{10}… حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میل بھر پیدل چلتے رہے ۔ پھر ارشاد فرمایا:’’اے معاذ! میں تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے،سچی بات کہنے، عہدپورا کرنے، امانت ادا کرنے، خیانت چھوڑنے، یتیم پر رحم کرنے، پڑوسی کا خیال رکھنے ، غصہ پینے، نرم گفتگو کرنے، سلام کو عام کرنے، امام کی اطاعت کرنے، قرآنِ کریم میں غور وفکر کرنے، آخرت سے محبت کرنے، حساب سے ڈرنے، امیدیں کم کرنے اور اچھا عمل کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اس بات سے منع کرتا ہوں کہ تو کسی مسلمان کو گالی دے یا جھوٹے شخص کی تصدیق کرے یا سچے شخص کو جھٹلائے یا عادل امام کی نافرمانی کرے اور یہ کہ زمین میں فساد برپا کرے اور اے معاذ! ہر شجر وحجر کے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیا کرو اور ہر گناہ سے توبہ کرو، پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ اور اعلانیہ کی اعلانیہ۔‘‘ (۱)
گناہوں کی مغفرت:
{11}… شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جب بندہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لیتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے محافظ فرشتوں اور اس کے اعضاء کو اس کے گناہ بھلا دیتا ہے اور زمین پر سے اس کے گناہوں کے نشانات بھی مٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس پر اس کے گناہوں کا کوئی گواہ نہ ہو گا۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سے مراد بندہ کافر ہے کہ غرغرہ کے وقت اس کی توبہ قبول نہیں ، رب تعالیٰ فرماتا ہے: حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الۡـٰٔن.. الخ بعض علماء نے فرمایا کہ ملک الموت ہر مرنے والے کو نظر آتے ہیں مومن ہو یا کافر، خیال رہے کہ قبض روح پاؤں کی طرف سے شروع ہوتا ہے تاکہ بندہ کی اس حالت میں دل و زبان چلتے رہیں گنہگار توبہ کرلیں کہا سنا معاف کرالیں۔ کوئی وصیت کرنی ہو تو کرلیں یہ بھی خیال رہے کہ غرغرہ کے وقت گناہوں سے توبہ کے معنے ہیں گزشتہ گناہوں پر شرمندہ ہوجانا، اب آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد بے کار ہے کہ اب تو دنیا سے جارہا ہے، گناہ کا وقت ہی نہ پاسکے گا، مگر یہ توبہ اس وقت کی قبول ہے کہ رب تعالیٰ غفار ہے۔
1…الزھد الکبیر للبیہقی، باب الورع والتقوی، الحدیث:۹۵۶،ص۳۴۷ ۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، الرقم ۱۴۹۲الحسین بن احمد بن سلمۃ ، الحدیث:۳۳۵۳،ج۱۴،ص۱۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع