30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ جب بھی اس سے گناہ کا ارتکاب ہوا تو وہ استغفار کر کے اس سے تائب ہو جائے گااور اس گناہ کی طرف دوبارہ نہ پلٹے گا۔ اس کی دلیل یہ قول ہے کہ’’ ثُمَّ اَصَابَ ذَنْباً آخَرَ‘‘ یعنی پھر وہ کسی دوسرے گناہ میں مبتلا ہو گیا، پس جب اس کی عادت ہی یہ ہے تو جو چاہے کرے کیونکہ وہ جب بھی گناہ کا مرتکب ہو گا تو اس کی توبہ اور استغفار اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گا، پس وہ گناہ اسے نقصان نہیں دے گا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ کر کے اُسے چھوڑے بغیر صرف زبان سے توبہ و استغفار کرتا رہے اور پھر اسی گناہ کا دوبارہ ارتکاب بھی کرے کیونکہ یہ توجھوٹوں کی توبہ ہے۔ (۱)
حدیث ِ پاک میں ہے کہ ’’بے شک مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ بن جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے اور گناہ چھوڑ دے اور مغفرت چاہے تو اس سیاہی کو مٹا دیا جاتا ہے اور اگر وہ گناہوں میں زیادتی کرے تو وہ سیاہی بھی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے دل کو ڈھانپ لیتی ہے، یہی وہ رَان(یعنی زنگ) ہے جس کا ذکر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی کتاب میں یوں فرمایا:
کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾ (پ۳۰، المطففین:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان: کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔ (۲)
{9}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے ، غر غرہ سے پہلے ۔‘‘ (۳) (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الترغیب والترہیب،کتاب التوبۃ والزہد، باب الترغیب فی التوبۃ…الخ، تحت الحدیث:۴۸۱۰،ج۴،ص۷۔
2…سنن ابن ماجہ، ابواب الزہد، باب ذکرالذنوب، الحدیث:۴۲۴۴،ص۲۷۳۴۔
شعب الایمان للبیہقی، باب فی معالجۃکل ذنب بالتوبۃ، الحدیث:۷۲۰۳،ج۵،ص۴۴۰۔
3…جامع الترمذی،کتاب الدعوات، باب اِنَّ اللہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ، الحدیث:۳۵۳۷،ص۲۰۱۶۔
4…مفسر شہیر حکیم الامت
حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّانمراٰۃ المناجیح ،جلد3، صفحہ365پر اس حدیث پاک کی
شرح میں فرماتے ہیں :’’ نزع کی حالت کو جب کہ موت کے فرشتے نظر آجائیں غر غرہ کہتے ہیں
، اس وقت کفر سے توبہ قبول نہیں کیونکہ
ایمان کے لیے ایمان بالغیب ضروری ہے اب غیب مشاہدہ میں آگیا، اسی لیے ڈوبتے وقت فرعون کی توبہ قبول نہ ہوئی، مگر گناہوں سے توبہ اس وقت بھی قبول ہے، اگر توبہ کا خیال
آجائے اور الفاظ توبہ بن پڑیں۔ اسی لیے
مرقات نے یہاں فرمایا کہ عبد … …
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع