30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدگمانی
یاد رہے کہ بد گمانی بھی بدگوئی کی طرح حرام ہے۔ بدگمانی سے میری مراد وہ گمان ہے جو دل میں پختہ ہو اور کسی پر برائی کا حکم لگائے البتہ دل میں برے خیالات معاف ہیں بلکہ شک بھی معاف ہے مگر برا گمان ممنوع ہے۔ برا گمان یہ ہے کہ انسان کا نفس اس کی طرف جھک جائے اور دل اس کی طرف مائل ہوجائے۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶، الحجرات:۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!بہت گمانوں سے بچو، بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتاہے۔
بد گمانی کی حرمت کا سبب:
اس کے حرام ہونے کا سبب یہ ہے کہ دل کے معاملات کو سوائے علاَّم الغیوب ربعَزَّوَجَلَّکے کوئی نہیں جانتا۔ لہٰذا آپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ آپ کسی کے بارے میں برا گمان رکھیں جب تک آپ کے سامنے کوئی ایسی واضح دلیل ظاہر نہ ہو جائے کہ جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ لہٰذا اس وقت جو بات آپ کو معلوم ہے یا جس کا مشاہدہ کیا اس کا اعتقاد رکھے بغیر کوئی چارہ نہیں اورجس چیز کا آپ نے نہ تو آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور نہ ہی کانوں سے اس کے متعلق کچھ سنا لیکن پھر بھی وہ آپ کے دل میں کھٹکے توجان لیں کہ آپ کے دل میں کھٹکنے والی بات شیطانی وسوسہ ہے۔ پس آپ پر لازم ہے کہ اسے جھٹلا دیں کیونکہ شیطان سب سے بڑا فاسق ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس سورت کے شروع میں فرمایا: اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا (پ:۲۶، الحجرات:۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو تحقیق کرلو۔
یعنی کسی برے خیال کی وجہ سے دھوکا نہ کھانا جبکہ وہ خیال اپنے خلاف کا احتمال رکھتا ہو کیونکہ یہ تو ممکن ہے کہ فاسق کی خبر سچی ہو لیکن آپ کے لئے اس کی تصدیق کرنا کسی صورت میں جائز نہ ہو۔ اسی وجہ سے ہمارے شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے کسی سے شراب کی بو آنے پر حد کا حکم نہیں دیا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ کسی اور چیز کی بو ہو۔ (۱) چنانچہ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بہارِ شریعت میں نقل
فرماتے ہیں : ’’شراب پینے کا ثبوت فقط منہ میں شراب کی سی بدبو آنے بلکہ قے میں
شراب نکلنے سے بھی نہ ہو گا یعنی فقط اتنی بات سے کہ بُو پائی گئی یا شراب کی قے
کی حد …
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع