30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالیشان ہے:
اِذْ یَقُوۡلُ لِصٰحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۚ (پ۱۰، التوبہ:۴۰)
ترجمہ کنز الایمان: جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
ِ اُمُّ المؤمنین کوسب وشتم کرنے والے کاحکم:
بہت سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا۔
اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا عبداللہ ہمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ میں ایک دن طبرستان میں حضرت سیِّدُنا حسن بن یزید داعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کی خدمت میں حاضر تھا، وہ صوف کا لباس پہنتے، نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع فرماتے تھے اور ہر سال بغداد میں 20 ہزار دینار بھیجا کرتے جو وہاں موجود مختلف صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْنکی اولاد پر تقسیم کرتے، ایک دفعہ ان کے پاس ایک شخص نے آ کر ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا برائی کے ساتھ تذکرہ کیا تو حضرت سیِّدُنا حسن بن یزید داعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اپنے غلام سے کہا: ’’اے غلام! اٹھ اور اس کی گردن مار دے۔‘‘ تو علوی اس کی طرف دوڑ پڑے اور کہا کہ یہ شخص ہمارے شیعوں میں سے ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ارشاد فرمایا:’’یہ شخص دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر طعن کرتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اَلْخَبِیۡثٰتُ لِلْخَبِیۡثِیۡنَ وَ الْخَبِیۡثُوۡنَ لِلْخَبِیۡثٰتِۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَ الطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا یَقُوۡلُوۡنَ ؕ (پ۱۸، النور:۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان: گندیاں گندوں کے لئے اور گندے گندیوں کے لئے اور ستھریاں ستھروں کے لئے اور ستھرے ستھریوں کے لئے وہ پاک ہیں ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں۔
اگر ( نَعُوْذُ بِاللہ عَزَّوَجَلَّ ) اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَـا خبیث ہوں توان کے شوہر بھی خبیث قرارپائیں گے حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا، بلکہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ صرف پاک وصاف ہیں بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ پاکیزہ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سب مخلوق سے زیادہ مکرم ہیں اور اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَــا بھی طیبہ، طاہرہ اور لعن طعن سے بری ہیں۔‘‘ (پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے دوبارہ اپنے غلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع