30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَسَلَّم کی زوجہ محترمہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے متعلق برا بھلا کہتا ہے اور ان کے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گالیاں دیتا ہے، پس میں اپنے لئے یہ پسند نہیں کرتا کہ حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دین کی پیروی بھی کروں اور ان کی زوجہ محترمہ پر تہمت بھی لگاؤں اور اُن کے صحابۂ کرامعَلَــیْہِمُ الرِّضْوَانکو بھی گالیاں دوں ، لہٰذا میں نے اپنے دین کو اس سردار کے دین سے بہتر سمجھا۔‘‘
سردار (یہ سُن کر) ایک لمحہ کے لئے غصہ سے خاموش ہو گیا، پھر یہودی کی سچی بات کو جان کر ایک گھڑی کے لئے اپنا سر زمین کی طرف جھکا لیا اور پھر بولا: ’’تو نے سچ کہا، اپنا ہاتھ بڑھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیِّدُنا محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں اور میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس سے توبہ کرتا ہوں جو میں کہتا تھا اور جو عقیدہ رکھتا تھا۔‘‘ پھریہودی نے بھی کہا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیِّدُنامحمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں اور دینِ اسلام کے علاوہ ہر دین باطل ہے۔
اُس یہودی نے اچھی طرح اسلام قبول کر لیا اور سردار نے بھی بدمذہبیت سے توبہ کر لی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی توفیق اور ہدایت سے اس کی توبہ بڑی خوب تھی۔ (۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے پیارے نبی حضرت سیِّدُنا محمدمصطفی، احمدمجتبیٰصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حدیث ِ پاک اور سنت ِ مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، بے شک وہ جواد وکریم اور رء ُوف ورحیم ہے۔
مذکورہ سرداربھی مسلمان ہو گیا کیونکہ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو گالیاں دینا بالاجماع کفر ہے، اس لئے کہ اس میں قرآنِ کریم کی ان آیاتِ مقدسہ کی تکذیب ہے جو منافقین کے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر تہمت لگانے کی وجہ سے ان کے رد میں نازل ہوئی تھیں۔ اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے والد ماجد کے صحابی ہونے کا انکار بھی بالاجماع کفر ہے کیونکہ اس میں بھی قرآنِ پاک کی تکذیب ہے، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…النہی عن سب الأصحاب وما فیہ من الإثم والعقاب، الرقم۵۷،ص۴۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع