30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور سزا کی شدت پر دلالت کرتی ہیں۔
گستاخ ابنِ منیر کا حال:
حضرت سیِّدُنا کمال بن قدیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ’’تاریخِ حلب‘‘میں ایسے ہی ایک گستاخِ صحابہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب گستاخ اِبنِ منیر مر گیا توحَلَب کے کچھ نوجوان اُس کا اَنجام دیکھنے کے لئے چل پڑے، وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے سنا ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گالیاں بکنے والا جب مرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّاُسے قبر میں خنزیر کی طرح کر دیتا ہے اورمَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِبنِ منیربھی اُن مکرَّم ومقدَّس ہستیوں کو سبّ وشَتْم کرتا تھا۔ لہٰذا اُس کے اَنجامِ بد کی خبر لینے چلتے ہیں ، اِس ارادے کے ساتھ سب نے اُس کی قبر کی طرف جانے پر اِتِّفاق کرلیا۔ چنانچہ جب اُنہوں نے جا کر اُس گُستاخِ صحابہ کی قبر کوکھودا(۱) تو وہ واقِعی خنزیر کی شکل میں بدل چکا تھا اور اُس کا چہرہ قِبلہ سے جانبِ شِمال پِھرا ہوا تھا، اُنہوں نے اُس بدمذہب کی لاش کو قبر سے باہر نکال کر رکھ دیا تاکہ دیگر لوگ بھی اُس کا اَنجامِ بد دیکھیں اور بے ادَبوں وگُستاخوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ جب سب دیکھ چکے تو اُس کی لاش کو آگ لگا دی پھر قبر میں پھینک کر اُس پر مِٹی ڈال دی اور واپس پلَٹ آئے۔ ؎
{محفوظ سدا رکھنا شہا بے اَدَبوں سے اورمجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے اَدَبی ہو}
صحابہ کاگستاخ بندربن گیا:
حضرت سیِّدُنا کمال بن قدیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نقل فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عبد الواحد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے حضرت شیخ صالح عمر رعینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے فرمایا کہ میں عاشورا کے دن مدینہ شریف زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاکے قریب فقیر بن کر بیٹھاہوا تھا ۔اسی دن امامیہ (اہلِ تشیع کے ایک فرقہ کے لوگ) قبۂ عباس میں اکٹھے ہوتے تھے۔جب وہ قبہ میں اکٹھے ہوئے تومیں نے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…بلااجازت شرعی قبر کھودنا جائز نہیں جیساکہ اعلیٰ حضرت، مجدِّدِ دین ومِلَّت، اِمامِ اہلسنّت شاہ اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ (مخرَّجہ) جلد9، صفحہ406پر فرماتے ہیں : ’’بعدازدفن کشودن حلال نیست یعنی دفن کے بعد (قبر)کھولنا جائز نہیں۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع