30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسد کے وقت اس بات میں بھی غور کر لیں کہ آپ نے اس کی وجہ سے دنیا و آخرت کے خسارے کو جمع کر لیا ہے۔ دنیا کا خسارہ تو یہ ہے کہ آپ کا کسی کی نعمت پر اس سے حسد کرنا اور پھر اس حسد کی وجہ سے عذاب کا مستحق بن جانا۔ جبکہ آخرت کا خسارہ یہ ہے کہ آپ آخرت میں اسے نیکیاں دینے یا اس کے گناہ لینے کے ذریعے اس کی مدد کریں گے۔ لہٰذا آپ اس کے تو دوست ہیں لیکن اپنے دشمن ہیں۔ پس آپ نے اپنے حسد کی خباثت کے ساتھ اپنی حماقت کی جہالت کو جمع کر لیا ہے اور بسا اوقات یہی چیز آپ کی طرف سے اس کی فضیلت پھیلنے کا سبب بن جاتی ہے جیسے شاعر کا قول ہے :
وَاِذَا اَ رَادَ اللہُ نَشْرَ فَضِیْلَۃٍ طُوِیَتْ اَ تَاحَ لَھَا لِسَانَ حُسُوْدٖ
ترجمہ:اورجب اللہ عَزَّوَجَلَّکسی چھپی ہوئی فضیلت کو پھیلانے کا ارادہ فرماتا ہے تواس کے لئے حاسدین کی زبانوں کو دراز کردیتا ہے۔
فخر و خود پسندی اور اپنی فضیلت کے اظہار کے وقت یہ بات یاد رکھیں کہ جب آپ نے کسی کا برا تذکرہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اپنا مقام و مرتبہ خود ہی ختم کر دیا اور لوگ آپ کے قابل اعتماد ہونے کا جو اعتقاد رکھتے تھے آپ اس پر بھی پورے نہ اُترے۔ بلکہ جب وہ آپ کو پہچان لیں گے کہ یہ لوگوں کی عزتوں کودا غ دار کرنے وا لا اور برے مقاصدرکھنے والا ہے تو وہ آپ سے نفرت کرنے لگیں گے۔ لہٰذا آپ نے وہ مقام ومرتبہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں یقینی تھا اسے اس غیر یقینی چیز کے بدلے میں بیچ دیا جو بے بس مخلوق کے پا س ہے۔
کسی کا مذاق اڑاتے وقت یہ بات پیشِ نظر رکھیں کہ’’جب آپ نے کسی دوسرے کو لوگوں کے سامنے رسوا کیا تو یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے آپ کو رسوا کر دیا۔‘‘ اور خود پسندی اور استہزا میں بڑا فرق ہے۔
غیبت پر ابھارنے والے بقیہ اُمور کا علاج مذکورہ بحث سے ظاہر ہوجائے گا لہٰذا ان کے بیان کی حاجت نہیں تاکہ بحث طویل نہ ہوجائے ۔
تنبیہ8:
یہ بات پہلے بیان ہو چکی ہے کہغِیْبَت بِالْقَلْب (یعنی دل سے غیبت کرنا، بدگمانی ) حرام ہے اور اس کا معنی بھی بیان ہو چکا ہے اور’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْم‘‘ کا وہ قول بھی اس کی تائید کرتا ہے جس میں دل سے غیبت کرنے کی حرمت کا بیان ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع