30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
السَّلَام کی عبارات اسی پر دلالت کرتی ہیں اور جس نے بندوں کے حق کو پیشِ نظر رکھا اس نے معاف کرواناواجب قرار دیا۔ حضرت سیِّدُنا امام ابن عبد السلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا یہ قول بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ جس نے ڈاکا ڈال کر مال حاصل کیا توکیا اس پر اسے بتانا واجب ہے؟ پس اگر ہم اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق غالب قرار دیں تو اسے بتانا واجب نہیں اور اگرحد میں بندے کا حق غالب قرار دیں تو اسے آگاہ کرنا واجب ہے تا کہ وہ اس سے اپنا حق وصول کر لے یا اِسے چھوڑ دے تا کہ حاکم اس سے پورا کر لے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام ابنِ رفعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے حوالے سے اجنبی عورت کو بوسہ دینا اس نافرمانی کی مثال ٹھہرایا جس میں بندوں کا کوئی حق نہیں اور ساتھ ہی اس سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ اس سے وطی کرنے میں بندوں کا حق متعلق ہے اور اس صورت میں یہ امامِ غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکے کلام کے مطابق ہے اور اگر اس نے ایسی ضرب لگائی جس میں قصاص نہیں تو جسے مارا گیا اسے خوش کرنے کے لئے اس سے معافی مانگے اگر وہ معاف کر دے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنے نفس پر اسے قدرت دے دے تا کہ وہ اس کے ساتھ ایسا ہی کرے جیسا اس نے کیا کیونکہ اب یہ اس کے دائرۂ اختیار میں ہے اور اگر وہ معاف کرنے اور اس سے بدلہ لینے سے رُک جائے تو بھی اس کی توبہ صحیح ہے۔ یہ بات حضرت سیِّدُنا امام ماوردیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ذکر فرمائی۔
حضرت سیِّدُنا امام قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے بھی اسی طرح ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ اگر صاحب ِحق مر گیا تو اس کے وارث سے معاف کرانے کی کوئی حاجت نہیں بلکہ میت کے لئے استغفار کرے۔‘‘ اس پر حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: ’’وارث کو معافی کا حق منتقل ہوتا ہے لہٰذا اسے اس کی خبر دینا ضروری ہے۔‘‘ مگریہ بات محلِ نظر ہے کیونکہ یہ طے ہے کہ اس میں کوئی قصاص نہیں اور اس طرح کا حق وارث کوبالکل منتقل نہیں ہوتا مگر یہ کہ ایسا زخم جس میں قضاء ً قصاص ہو تو اس اعتبار سے کہ وہ مال کو ضمن میں لئے ہوئے ہے، وارث کو منتقل ہو گا اور اس صورت میں معاف کروانا واجب ہے اور حضرت سیِّدُنا امام قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی قطعاً یہ مراد نہیں بلکہ ان کی مراد ہاتھ وغیرہ سے مارنا ہے کہ جس میں کوئی قصاص یا مال لازم نہیں آتا اور یہ حق وارث کو منتقل نہیں ہوتااور اگر مستحق موجود ہو مگر اس کے کسی دُور دَراز علاقے میں ہونے کی وجہ سے معاف کرانا مشکل ہو تو اس کا گناہ کو چھوڑنااور نادِم ہونا ہی کافی ہے جبکہ یہ پختہ ارادہ ہو کہ جب بھی ہوسکا اپنے نفس پر اُسے قدرت دے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع