30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{1}…وہ گناہ یا تومال کے متعلق ہوتے ہیں ، پس قدرت کے وقت اسے لوٹانا واجب ہے، اگر غربت کی وجہ سے عاجز ہو تو معاف کرائے، اگر اس کے کہیں چلے جانے یا جہانِ فانی سے کُوچ کر جانے کی وجہ سے معاف کرانے سے عاجز ہو اور اس کی طرف سے صدقہ کرنا ممکن ہو تو صدقہ کرے ورنہ بکثرت نیکیاں کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں رجوع کرے اور گریہ وزاری کرے تاکہ وہ شخص بروزِ قیامت اس سے راضی ہو جائے۔
{2}…یاجان کے متعلق ہوتے ہیں تو اسے چاہئے کہ اسے یا اس کے ولی کو قصاص کی قدرت دے، اگرایسا نہیں کر سکتاتو بارگاہِ الٰہی میں دعا کرے کہ وہ قیامت کے دن اس سے راضی ہو جائے۔
{3}…یا عزَّت کے معاملے میں ہوتے ہیں ، اگر اس نے کسی کی غیبت کی ہو یا کسی کوگالی دی ہو یا کسی پر بہتان لگایا ہو تو اس پر حق ہے کہ جس کے ساتھ ایسا کیا ہو ممکنہ حد تک اس کے سامنے اپنے آپ کو جھٹلائے جبکہ اظہار کرنے سے اسے اس کے غضب کی زیادتی یا فتنہ بھڑکنے کا خوف نہ ہو اور اگر اس کا خوف ہو تو اس کے بھی راضی ہونے کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرے۔
{4}… یاکسی کے محارم (یعنی اہل وعیال) کے متعلق ہوتے ہیں ، اگر اس نے کسی کے اہل وعیال وغیرہ کے ساتھ کوئی برائی کی تو معافی مانگنے اور اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ اس سے فتنہ وغضب کی آگ بھڑک اُٹھے گی بلکہ اس کے راضی ہونے کے متعلق بارگاہِ الٰہی میں گریہ وزاری کرے اور اس کے مقابلے میں اس کے لئے بھلائی کرے،اور اگر اسے فتنہ یا غضب کا خوف نہ ہو حالانکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے تو اس سے معافی مانگے۔
{5}…یا دِین کے متعلق ہوتے ہیں ، اگر اسے کافر یا بدعتی یا گمراہ کہا تو یہ مشکل ترین امر ہے۔ پس اسے اس کے سامنے اپنے آپ کو جھٹلانا ضروری ہے اور ممکنہ حد تک اس سے معافی مانگے ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بہت زیادہ گڑگڑائے اور اس پر نادم ہو تاکہ وہ راضی ہو جائے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ)کا مذکورہ کلام بہت زیادہ قابلِ تحسین اور تحقیق پر مبنی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…منہاج العابدین للغزالی، الباب الثانی العقبۃ الثانیۃ وھی عقبۃ التوبۃ،ص۲۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع