30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے ہوئے فرمایا: ’’دِل میں جس فعل کا ارادہ کیا جائے اس کی طرف بڑھنے کے ساتھ عمل کے ملنے کے باوجود مؤاخذے کا نہ ہونا بطریقِ اَولیٰ لازم آتا ہے۔ مزید فرمایا کہ والدِ محترم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا یہ قول ممنوع ہے کہ جب ارادہ نہ ہو تو نہیں لکھا جاتا تو حدیث ِ نفس بدرجۂ اَولیٰ نہیں لکھی جائے گی اور ہم تسلیم نہیں کرتے کہ ارادہ مطلقًا نہیں لکھا جاتا بلکہ عمل کے اس کے ساتھ ملنے سے وہ بھی لکھا جاتا ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کیتَعْلِیْقیعنی حاشیہ میں ہے: جس طرح فعلِ حرام کا ارتکاب حرام ہے اسی طرح اس میں غور وفکر کرنا بھی حرام ہے۔ جس کی وجہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان ہے:
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍؕ (پ۵، النساء:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اورا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی۔
پس ناجائز چیز کی تمنا کرنا بھی اسی طرح ممنوع ہے جس طرح اس فرمانِ باری تعالیٰ کی وجہ سے اسے دیکھنا ممنوع ہے:
قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنْ اَبْصٰرِہِمْ (پ۱۸، النور:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔
اگر کسی نے نیت کی کہ وہ کل کافر ہو جائے گا تو اصلِ مذہب کے مطابق وہ فوراً کافر ہو جائے گا کیونکہ یہ خطرناک ارادہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام عز بن عبدُ السلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں کہ کبھی ایک چیز ظاہری طور پر نافرمانی ہوتی ہے لیکن کبھی اس کے ساتھ اچھی نیت مل کر اسے گناہ سے نکال دیتی ہے اور کبھی وہ عبادت بھی بن جاتی ہے جیسا کہ چنگی و ٹیکس پر گواہی کے متعلق بیان ہو چکا ہے۔
حضرت سیِّدُنا محب طبریعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا قول نقل کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : چغلی کے متعلق بھی یہی تفصیل ہونی چاہئے اور شدید اور کم اذیت دینے والی چغلی میں فرق کا احتمال ہے، پس عام طور پر جس کی چغلی کھائی جائے، وہ کم تکلیف دِہ چغلی معاف کر دیتا ہے۔‘‘ مذکورہ قول محلِ نظر ہے بلکہ اس فرق کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ بالاجماع غیبت کا گناہ چغلی کے گنا ہ سے بڑھ کر ہے اس کے باوجود جب علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس میں فرق نہیں کیا تو چغلی میں تو بدرجۂ اَولیٰ فرق نہیں کرنا چاہئے۔ مزید فرماتے ہیں : پھر میں نے حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) کی کتاب’’مِنْھَاجُ الْعَابِدِیْن‘‘ میں دیکھا کہ ’’لوگوں کے درمیان ہونے والے گناہ عموماً 5 قسم کے ہوتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع