30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نُورِمجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مطلق عمل کہنے سے مؤاخذہ ہونا ظاہر ہوتا ہے یعنی یہ کہ وہ نہ تو زبان سے کہے اور نہ ہی عمل کرے۔ مزید فرماتے ہیں کہ پس اس سے گناہ کی طرف چلنے کی حرمت کی وجہ سے مؤاخذہ کیا جائے گا اگرچہ چلنا بذات ِخود مباح ہے لیکن حرام کے ارادے کے ملنے سے یہ بھی حرام ہو گیا۔ گناہ کی طرف جانے اور ارادے میں سے ہر ایک انفرادی طور پر حرام نہیں لیکن جب دونوں اکٹھے ہو جائیں تو حرام ہو جائیں گے کیونکہ ارادے کے ساتھ عمل مل گیا جو قصدوارادہ کے اسباب میں سے ہے۔ ’’اَوْ یَعْمَلُ‘‘ کا مطلق قول اس کے مؤاخذہ کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا اس بات کو سختی سے تھام لیجئے اور اسے اصل بنا لیجئے یقینا اس سے آپ کو بار بار فائدہ ہو گا۔
حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام سبکیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا حدیث ِ نفس (یعنی دِل کے خیال) کے ملنے کی وجہ سے مؤاخذہ کا مذکورہ قول ’’اَوْ یَعْمَلُ‘‘کے اطلاق کی وجہ سے مستحسن ہے جبکہ کسی دوسری حدیث ِ پاک پر اعتبار نہ کیا جائے لیکن بخاری ومسلم کی روایت میں ’’اَوْ یَعْمَلُ بِہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں اور اس میں احتمال ہے کہ اگر وہ گناہ کی طرف بڑھنے کے بعد اس کے ارتکاب سے پہلے محض رضائے الٰہی کی خاطر لوٹ آیا تو اس کے فعل پر مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ،
{1}…حدیث ِ قدسی ہے:’’اگر اس نے وہ برائی ترک کر دی تو اس کے لئے ایک نیکی لکھ دو، بے شک اس نے وہ میری رضا کے لئے چھوڑی ۔‘‘ (۱)
{2}…ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’اگر اس نے وہ برائی میرے لئے چھوڑی تو اسکے لئے ایک نیکی لکھ دو۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا امام سبکی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں : ’’اَوْ یَعْمَلُ‘‘کے فرمان کا کوئی مفہوم نہیں یہاں تک کہ یہ کہا جائے کہ جب اس نے گفتگو کی یا اس پر عمل کیا تو اس پر حدیث ِ نفس یعنی دِل کا خیال لکھا جائے گا کیونکہ جب ارادہ نہ ہو تو نہیں لکھا جاتالہٰذا حدیث ِنفس بد رجۂ اَولیٰ نہیں لکھی جائے گی۔ ‘‘
اس پرحضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ِ پاک کے ظاہری مفہوم اور ان کے بیٹے حضرت سیِّدُنا امام تاج الدین سبکیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے قول کے خلاف ہے، بلکہ ان کے بیٹے نے ان سے اختلاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب الإیمان، باب اذا ہَمَّ العبدُ بحسنۃٍ …الخ، الحدیث:۳۳۶،ص۷۰۰۔
2…الاحسان بترتیب…،کتاب البر والاحسان، با ب ما جاء فی الطاعات وثوابہا، الحدیث:۳۸۳،ج۱،ص۳۰۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع