30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکم ہے کیونکہ پاک نفوس بہت کم پائے جاتے ہیں اور اگر اسے غالب گمان ہو کہ اگر اسے بتایا تو وہ بغیر نقصان پہنچائے معاف کر دے گا تو بتانا واجب ہے تاکہ اس کے حق سے یقینی طور پر بری ہو جائے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام زرکشیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنے شیخ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا کلام نقل کرکے اس پر جواعتراض ذکر کیا پھر اس کا جو جواب دیا، وہ یہ ہے:
اعتراض: احادیث ِ مبارکہ حسد کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ یہ بھی دل کے اعمال میں سے ہے، لہٰذا اس سے توبہ واجب ہے اور معافی مانگنے کے علاوہ توبہ کا کوئی طریقہ نہیں تو اس سے حضرت سیِّدُنا امام عبادیعَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے قول کو تقویت ملتی ہے؟
جواب:سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری اُمَّت کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے جب تک وہ زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں۔‘‘ (۱)
مذکورہ حدیث ِپاک کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ یہ مرفوع ہے اور حضرت سیِّدُنا امام محب طبری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اسے اختیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم وسعت ِ رحمت ِالٰہی کی بدولت احادیث ِ صحیحہ پر عمل کرتے ہوئے اعتقاد رکھتے ہیں کہ دِل کے خیال پر ہر حال میں مؤاخذہ نہیں ہو گا خواہ اس میں ارادہ ہو یا نہ ہو بشرطیکہ زبان سے کچھ نہ کہیں یا اس پر عمل نہ کریں اور مؤاخذہ پر دلالت کرنے والی احادیث ِ مبارکہ کو عمل کرنے پر محمول کیا جائے گا اور کفر کے علاوہ دل کے کسی خیال سے وہ گنہگار نہیں ہو گا کیونکہ کفر کے دل کا عمل ہونے پر اجماع ہے۔
مؤاخذہ کا حکم:
حسد کے متعلق صحیح احادیث ِ مبارکہ وارد ہیں اور ہر برا عمل مذموم ہے خواہ اس کا تعلق باطن سے ہو یا ظاہر سے۔ حسد پر مؤاخذہ کے متعلق ہمیں کوئی صحیح حدیث ِ پاک نہیں ملی اور اگر اس کے متعلق کوئی صحیح حدیث ِ پاک مل جائے توان میں تطبیق کرتے ہوئے ہم اسے زبان سے اظہار کرنے یا عمل کرنے پر محمول کریں گے۔ حضرت سیِّدُنا امام عبادیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے حوالے سے ذکرکردہ قول بعیداز قیاس ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب العتق، باب الخَطَأِ والنِسْیان…الخ، الحدیث:۲۵۲۸،ص۱۹۹۔
سنن النسائی،کتاب الطلاق، باب من طلق فی نفسہ، الحدیث:۳۴۶۵،ص۲۳۱۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع