30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عزت لوگوں پرصدقہ کر دی۔‘‘ (۱)
شرحِ حدیث:
اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوضمضمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں کہ میں دنیا وآخرت میں اپنے حق کا مطالبہ نہیں کروں گا اور یہ روایت اس حق کے ساقط کرنے کا فائدہ دیتی ہے جو بری کرنے سے پہلے موجود تھا اور جو بعد میں پیدا ہو اس کے لئے نئی براء َت ضروری ہے۔ اس عبارت میں پہلے سے واقع نامعلوم حقوق کے ساقط ہونے کی تصریح ہے جو کلامِ امامِ حلیمی کے تقاضے کے مطابق ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ)’’اِحْیَائُ الْعُلُوْم‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’جس نے زبان سے کسی کی عزت خراب کی یا اپنے کسی عمل سے اس کو قلبی اذیَّت پہنچائی تو اس سے معافی مانگے اور اگر وہ وہاں موجود نہ ہو یا جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا ہو تو اس کا معاملہ فوت ہو گیا اور اب وہ اسے نیکیوں کی کثرت سے ہی پا سکتا ہے تا کہ قیامت میں بطورِ عوض انہیں لیا جا سکے اور اسے تفصیلی طور پر بتانا واجب ہے اور اگر تفصیل نقصان دِہ ہو مثلاً پوشیدہ خامیوں کا ذکر کرنا تو اس سے مبہم طور پر معافی مانگے، پھر بھی اس پر حق باقی رہا تو اسے نیکیوں کے بدلے پورا کرے جیسے میت یا غائب کا حق پور اکیا جاتا ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام عبادی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے حسد میں غیبت کی طرح خبر دینا واجب قرار دیا لیکن حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اسے بعید از قیاس جانا اور حضرت سیِّدُنا امام ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ان کے قول کو صحیح قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’واجب تو دور کی بات ہے یہ مستحب بھی نہیں۔‘‘ مزید فرمایا: ’’اسے مکروہ بھی کہا جاسکتاہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’بات وہی ہے جو حضرت سیِّدُنا امام نووی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ارشاد فرمائی اورحضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اس بات پر جو نص قائم فرمائی وہ اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہے اور حق کے زیادہ قریب اس کا حرام ہونا ہے بشرطیکہ جب اس کا غالب گمان ہو کہ وہ معاف نہیں کرے گا بلکہ اس سے دشمنی اور بغض وکینہ پید اہو گا اور خبر دینے والے کو تکلیف پہنچے گی اور اگر اس بات کا شک ہو تو پھر بھی یہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب ما جاء فی الرجل یحل…الخ، الحدیث:۴۸۸۶،ص۱۵۸۱، مفہوماً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع