30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باطل ہے کیونکہ گناہ سے معذرت کے وجوب کی علَّت اس کا برا ہونا ہے نہ کہ اس کے غم کا موجب ہونا، کیونکہ اگر اس نے سلطان کے مال سے ایک دِرہم چرا لیا تو اُسے کوئی غم نہ ہو گا لیکن اِسے گناہ کی وجہ سے معافی مانگنا واجب ہے جیسا کہ فقیر سے ایک درہم چھیننے کی وجہ سے معافی مانگنا لازم ہے جس کے مفقود ہونے سے فقیر کو بہت افسوس ہو گا۔ ہاں ! یہ واضح بات ہے کہ بادشاہ کی نسبت فقیر سے معذرت کرنا بدرجۂ اولیٰ واجب ہے، اسی طرح اگر مال چوری کر کے واپس رکھ دیا اور اس کے مالک کو معلوم نہ ہوا تب بھی برائی اور ظلم کی وجہ سے اس سے معذرت کرنا واجب ہے اور اگر اسی طرح ہو جس طرح اس قائل (یعنی قدری)نے دعویٰ کیا تو اس کے نزدیک اہل ومال میں کسی بہت بڑی برائی پر بھی معذرت کا وجوب ساقط ہو جائے گا جبکہ یہ معلوم ہو کہ جس سے برائی کی گئی، معذرت کرنے پر وہ غم میں مبتلا ہو جائے گا (حالانکہ ایسا نہیں ہوتا)۔‘‘
انہوں نے جو کچھ چوری کے متعلق ذکر کیا اس میں چند علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے ان سے اختلاف کیا اور ارشاد فرمایاکہ جس نے مال چوری کرکے واپس رکھ دِیا تو اس پر مالک کو بتانا واجب نہیں بلکہ اس کا چھپانا بہتر ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام حناطیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے حوالے سے بیان ہو چکا ہے کہ ورثاء کے معاف کرنے کا کوئی اعتبار نہیں اور حضرت سیِّدُنا امام قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ان کی موافقت کرتے ہوئے اپنی تَعْلِیْق(یعنی اپنے حاشیہ) میں ہر اس گناہ کو اس کے ساتھ ملحق کیا جس میں حد نہ ہو لیکن اگر اس میں حد ہو مثلاً حدّ ِ قذف تو اس میں معافی مانگنے کا اعتبار کیا جائے گا۔’’اَلرَّوْضَۃ‘‘میں مجہول غیبت سے معافی کافی ہونے کے متعلق دو وجوہات مذکور ہیں : ’’اَلأذْکَار‘‘ میں جس وجہ کو ترجیح دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ غیبت کی (مختلف اقسام کی علیحدہ علیحدہ) پہچان ضروری ہے کیونکہ انسان کبھی کسی غیبت سے درگزر کر دیتا ہے اور کسی سے نہیں کرتا اور حضرت سیِّدُنا امام حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی وغیرہ کا کلام اس کے یقینی طور پر صحیح ہونے کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ جس نے غیبت کے ظاہر ہوئے بغیر درگزر کر دیا تو جب بھی غیبت ہو گی وہ اپنے نفس کو اس پر آمادہ کر لے گا اور’’اَلرَّوْضَۃ‘‘ میں حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا کلام بھی اسی کے موافق ہے۔
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار،شفیعِ روزِشمارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ ابو ضمضم کی طرح ہو جائے کہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو کہتے ہیں :’’ میں نے اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع