دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

باطل ہے کیونکہ گناہ سے معذرت کے وجوب کی علَّت اس کا برا ہونا ہے نہ کہ اس کے غم کا موجب ہونا، کیونکہ اگر اس نے سلطان کے مال سے ایک دِرہم چرا لیا تو اُسے کوئی غم نہ ہو گا لیکن اِسے گناہ کی وجہ سے معافی مانگنا واجب ہے جیسا کہ فقیر سے ایک درہم چھیننے کی وجہ سے معافی مانگنا لازم ہے جس کے مفقود ہونے سے فقیر کو بہت افسوس ہو گا۔ ہاں ! یہ واضح بات ہے کہ بادشاہ کی نسبت فقیر سے معذرت کرنا بدرجۂ اولیٰ واجب ہے، اسی طرح اگر مال چوری کر کے واپس رکھ دیا اور اس کے مالک کو معلوم نہ ہوا تب بھی برائی اور ظلم کی وجہ سے اس سے معذرت کرنا واجب ہے اور اگر اسی طرح ہو جس طرح اس قائل (یعنی قدری)نے دعویٰ کیا تو اس کے نزدیک اہل ومال میں کسی بہت بڑی برائی پر بھی معذرت کا وجوب ساقط ہو جائے گا جبکہ یہ معلوم ہو کہ جس سے برائی کی گئی، معذرت کرنے پر وہ غم میں مبتلا ہو جائے گا (حالانکہ ایسا نہیں ہوتا)۔‘‘

انہوں نے جو کچھ چوری کے متعلق ذکر کیا اس میں چند علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے ان سے اختلاف کیا اور ارشاد فرمایاکہ جس نے مال چوری کرکے واپس رکھ دِیا تو اس پر مالک کو بتانا واجب نہیں بلکہ اس کا چھپانا بہتر ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام حناطیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے حوالے سے بیان ہو چکا ہے کہ ورثاء کے معاف کرنے کا کوئی اعتبار نہیں اور حضرت سیِّدُنا امام قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ان کی موافقت کرتے ہوئے اپنی تَعْلِیْق(یعنی اپنے حاشیہ) میں ہر اس گناہ کو اس کے ساتھ ملحق کیا جس میں حد نہ ہو لیکن اگر اس میں حد ہو مثلاً حدّ ِ قذف تو اس میں معافی مانگنے کا اعتبار کیا جائے گا۔’’اَلرَّوْضَۃ‘‘میں مجہول غیبت سے معافی کافی ہونے کے متعلق دو وجوہات مذکور ہیں : ’’اَلأذْکَار‘‘ میں جس وجہ کو ترجیح دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ غیبت کی (مختلف اقسام کی علیحدہ علیحدہ) پہچان ضروری ہے کیونکہ انسان کبھی کسی غیبت سے درگزر کر دیتا ہے اور کسی سے نہیں کرتا اور حضرت سیِّدُنا امام حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی وغیرہ کا کلام اس کے یقینی طور پر صحیح ہونے کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ جس نے غیبت کے ظاہر ہوئے بغیر درگزر کر دیا تو جب بھی غیبت ہو گی وہ اپنے نفس کو اس پر آمادہ کر لے گا اور’’اَلرَّوْضَۃ‘‘ میں حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا کلام بھی اسی کے موافق ہے۔

سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار،شفیعِ روزِشمارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ ابو ضمضم کی طرح ہو جائے کہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو کہتے ہیں :’’ میں نے اپنی


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن