30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کی پیروی کی جن میں حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بھی شامل ہیں اور حضرت سیِّدُنا امام ابن صلاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے بھی اپنے فتاویٰ میں اسی قول کو پسند فرمایا۔ حضرت سیِّدُنا امام زرکشیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ یہی قول مختار ہے اور حضرت سیِّدُنا امام ابن عبد البر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے بھی اسے حضرت سیِّدُنا امام عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ سے نقل کیا ہے اور بلاشبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے حضرت سیِّدُنا امام سفیان ثوری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۱۶۱ھ) سے اس پربحث ومباحثہ کیا اور جب انہوں نے نہ مانا تو حضرت سیِّدُنا امام عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے فرمایا: اسے دو بار تو اذیت نہ دو۔ حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہسیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تو نے جس کی غیبت کی اس کے لئے یہ کہتے ہوئے استغفار کر کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہماری اور اس کی مغفرت فرما۔‘‘ (۱)
حدیث ِ پاک کی وضاحت:
اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی( متوفی۴۵۸ھ) نے فرمایا لیکن حضرت سیِّدُنا امام ابنِ صلاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کی سند معروف نہیں مگر اس کا مفہوم قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ،کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ (پ۱۲، ھود:۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’برائی کے بعد بھلا ئی کرو کہ وہ اسے مٹا دے گی۔‘‘ (۲)
اورحضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث ِ پاک میں ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اپنے گھر والوں سے اپنی زبان کی تیزی کی شکایت کی تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم استغفارکیوں نہیں کرتے؟ ‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الدعوات الکبیر للبیہقی، باب ما یقول إذا جری علی لسانہ غیبۃ، الحدیث:۷۰۵،ج۲،ص۲۹۴۔
2…جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی معاشرۃ الناس، الحدیث:۱۹۸۷، ص۱۸۵۱۔
3…سنن ابن ماجہ، ابواب الادب، باب الاِسْتِغْفَار، الحدیث:۳۸۱۷،ص۲۷۰۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع