30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے اور اگر سزا کا اندیشہ ہو اور گمان کرے کہ وہ اسے سزا دے گا تو خبر دینا ضروری نہیں بلکہ اگر اس نے جھوٹی تہمت لگائی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں التجا کرے کہ میری طرف سے اسے راضی کردے، ہاں ! اگر سزا سے امن پائے تو اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث کو بتانا ضروری ہے اور ساتھ ساتھ بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑا کر یہ سوال بھی کرتا رہے کہ میں نے جس مرنے والے پر تہمت لگائی ہے آخرت میں میری طرف سے اسے راضی کر دے اور اس کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہے جیسا کہ غیبت کے متعلق حکم ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں : حق کے قریب ترین یہ ہے کہ جان یا اعضا کے قصاص میں بھی یہی تفصیل ہو تو اس میں بھی اطلاع دینا ضروری نہیں مگر اس صورت میں کہ جب اس بات کا غالب گمان ہو کہ وہ مال چھیننے یا جرم سے زائد سزا دینے کے ذریعے ظلم نہیں کرے گا اور اگر غیبت کی خبر اس کو پہنچ جائے جس کی غیبت کی گئی یا ہم اسے قصاص یا تہمت کی طرح قرار دیں تو وہ خبر پہنچنے پر موقوف نہیں ، پس اس میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ اس نے جس کی غیبت کی اس کے پاس جا کر معافی طلب کرے اور اگر اس کے مر جانے یا دُور دراز مقام پر ہونے کی وجہ سے معاف کرانا مشکل ہو تو بارگاہِ الٰہی میں استغفار کرے۔
غیبت سے توبہ:
حضرت سیِّدُنا امام حناطیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی وغیرہ نے ورثاء کے معاف کرنے کے معتبر ہونے کا ذکر کیا ہے اور ’’اَلرَّوْضَۃ‘‘میں ان کے اس قول کو ثابت رکھتے ہوئے کہا گیاکہ حضرت سیِّدُنا امام حناطیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کا فتوی ہے کہ جس کی غیبت کی گئی جب اسے معلوم نہ ہو تو اس کا ندامت اور استغفار کرنا ہی کافی ہے اور حضرت سیِّدُنا امام ابنِ صباغ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ(متوفی۴۷۷ھ) نے اس پر یقین کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کی غیبت کی گئی اگر اسے معلوم ہو جائے تو اس سے معافی مانگنا ضروری ہے کیونکہ اس نے اسے نقصان اور غم میں مبتلا کیا مگر جب اسے معلوم نہ ہو تو اسے بتانے کا کوئی فائدہ نہیں کہ یہ اسے اذیت پہنچانے کے مترادف ہے۔ پس اسے چاہئے کہ توبہ کرے جب وہ توبہ کر لے گا تو یہ توبہ اسے اس جرم سے کفایت کر جائے گی۔ ہاں ! اگر اس نے لوگوں کے سامنے اس کی خامی بیان کی تو ان کے پاس جائے اور انہیں بتائے کہ یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ کثیر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس قول میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع