30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نافرمانی ہو گی جو دوسری توبہ کا تقاضا کرتی ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام ابنِ عبدُ السلام رَحِمَہُ اللہُ السَّلَام نے اسی قول کی اتباع کی اور’’اَلرَّوْضَۃ‘‘ میں اس پر سکوت فرمایا۔ حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے اس پر اعتراض وارد کیا ہے کیونکہ ا س سے حاکم پر اس کی مثل مالی ادائیگی لازم آتی ہے حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں اور’’اَلْخَادِم‘‘ میں یہ فرق بیان کیا گیا کہ جس مال کو غصب کرنے پر گناہ ملتا ہے اُسے یا اُس کے بدلے دوسرا مال لوٹانا ممکن ہے جبکہ جو جان قتل کی وجہ سے ضائع ہو گئی اُسے یا اس کے عوض دوسری جان لوٹانا مشکل ہے لہٰذا ہم نے جانوں کو قتل سے بچانے کے لئے معافی کی اُمید پر توبہ اور چھپ جانے کو جائز قرار دیا۔
حضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے حضرت سیِّدُنا امام باقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے نقل کیا ہے کہ قاتل کے لئے جائز ہے کہ اپنے آپ کو پیش کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ کچھ دن چھپا رہے یہاں تک کہ مقتول کے ولی کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور اس کی اکثر مدت تین دن ہے۔ البتہ! اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ قصاص کے لئے اپنے آپ کو حوالے نہ کرنے کے باوجود ندامت کا پایا جانا محال ہے۔
حدّ ِ قذف سے توبہ:
حدِّ قذف میں بھی مستحق کو اپنے گناہ کے متعلق بتانا اور پھر اسے خود پر سزا کی قدرت دینا واجب ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ)فرماتے ہیں : ’’اگر اشاروں ہی اشاروں میں بالارادہ کسی پر تہمت لگائی تو اسے اس کی خبر دینا ضروری ہے اس لئے کہ اِس پر باطنی طور پر حد واجب ہے اور اس میں احتمال ہے کہ خبر دینا واجب نہ ہو کیونکہ اس میں ایذا ہے پس اسے واجب قرار دینا بعید از قیاس ہے اور چھپانا بہتر ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام عبادیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی اور حضرت سیِّدُنا امام بغویعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی وغیرہ کا یہ قول اس کی تائید کرتا ہے کہ اسے صریح تہمت کی خفیہ طور پر خبر دے جیسا کہ قصاص کے متعلق ہے۔
دوسری صورت: حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے ’’اَلتَّوَسُّط‘‘میں ارشاد فرمایا کہ جس پر تہمت لگائی گئی ہے اس کو تہمت کے بارے میں بتانا واجب ٹھہرانے کے متعلق جو تفصیل میرے دل میں ہے، وہ یہ ہے کہ اگر تہمت لگانے والے کو تہمت کی خبر دینے پر اپنی جان وغیرہ کی سلامتی کا یقین ہو تو لازمی طور پر خبر دینا ضروری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع