30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)کے کلام سے ہوتا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر وارث نے اسے بری کر دیا اور اپنا پورا حق وصول کر لیا تو حق ساقط تو ہو جائے گا لیکن اگر اس نے ٹال مٹول کر کے نافرمانی کی ہو تو اس سے توبہ کرے اورجس پر حق ہے اگر وہ تنگ دست ہو جائے تو نیت کرے کہ قدرت پانے پرقرض ادا کر دے گا۔حضرت سیِّدُنا امام قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں : ’’ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہ کی معافی بھی طلب کرے یعنی استغفار کرے اور اگر وہ ادائیگی حق پر قدرت پانے سے پہلے مر گیا تو فضلِ الٰہی سے مغفرت کی اُمید ہے۔‘‘
’’اَلْخَادِم‘‘ میں ہے کہ انہوں نے اپنی فقاہت (یعنی علمِ شریعت کی مہارت ) کے مطابق جو کچھ کہا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام لحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی کتاب’’اَلإرْشَادُ فِی الْکَلَام‘‘کے شارح حضرت سیِّدُنا امام ابو القاسم انصاری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اگر نفس یا مال سپرد کرنے کے درمیان کوئی چیز حائل ہوجائے جیسے کسی ظالم کا اسے روک لینا اور کسی ایسے معاملے کا پیش آ جانا جو اسے قدرت سے روک دے تو یہ حق اس سے ساقط ہو جائے گا اور اس پر یہ عزم کرنا ضروری ہے کہ اگر ممکن ہوا تو اس حق کو حق دار کے سپرد کر دوں گا۔ مزید فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ ‘‘ حضرت سیِّدُنا امام ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس میں اختلاف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ احادیث ِصحیحہ کا ظاہر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ظلماً لی ہوئی چیز کا مطالبہ کرنا صحیح ہے جبکہ وہ عاجز اور تنگ دست ہو بشرطیکہ اس نے التزام کے ساتھ نافرمانی کی ہو۔
حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہ قول محلِ نظر ہے اور’’اَلرَّوْضَۃ‘‘ میں ہے کہ ’’اگر کسی نے اپنی جائز ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قرض لیا اور اسے کسی ظاہری سبب یا طریقے سے اس کی ادائیگی کی اُمید بھی تھی لیکن موت تک اس کی ادائیگی سے عاجز رہا یا پھر غلطی سے کسی شے کو ضائع کر دیا اور موت تک اس کا تاوان ادا کرنے سے عاجز رہا تو ظاہر یہی ہے کہ آخرت میں اس سے اس حق کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے اُمید ہے کہ وہ صاحبِ حق کو اس کا عوض اپنے پاس سے ادا فرما دے گا اور حضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام سبکی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بھی اسی کے موافق ذکر کیا۔ حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع