30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)…یا پھر کسی کا یہ کہنا کہ’’وہ کیسے فلاں آدمی کے سامنے پڑھتاہے حالانکہ وہ جاہل ہے۔‘‘
(۴)…غیبت کا ایک سبب رحم کھانا بھی ہے۔ وہ یوں کہ کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہوتو اس پر اظہارِ غم کرنا اور یہ کہنا کہ’’ فلاں کی مصیبت نے مجھے غمگین کر دیا۔‘‘ اگرچہ وہ اپنی بات میں سچا ہو لیکن وہ اس کا نام لینے سے نہیں بچ سکا اس لئے غیبت کا مرتکب ہوا۔ اس کا غم ورحمت تو بہتر ہے لیکن شیطان اسے ایسے شر کی طرف لے جاتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہوتا۔ اس پر رحم کھانا اور اظہارِ غم کرنا نام لئے بغیر بھی ہوسکتا ہے مگر شیطان اسے نام لینے پر برانگیختہ کرتا ہے تا کہ اس کے اظہارِ غم اور رحم کھانے کا ثواب باطل ہو جائے۔
(۵)… کسی کے برائی میں مبتلا ہونے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے غضب ناک ہونا۔ پھر وہ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نام لیتا ہے حالانکہ لازم تو یہ ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے ذریعے اس پر اپنے غصے کا اظہار کرے اور کسی دوسرے پر ظاہر نہ کرے یا پھر اس کا نام چھپا ئے اور برائی کے ساتھ اس کا ذکر نہ کرے۔
یہ تینوں (یعنی تعجب، رحمت اور غصہ) ایسے اسباب ہیں کہ عوام تو دور کی بات ہے ان کا سمجھنا علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے لئے بھی مشکل ہے۔ کیونکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ تعجب، رحمت اور غصہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے ہو تو (مغضوب کا) نام لینے میں کوئی حرج نہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے، بلکہ غیبت کی رخصت کے اسباب صرف وہی ہیں جو گزشتہ صفحات پر بیان ہو چکے ہیں اور یہاں ان میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔
تنبیہ7: غیبت کا علاج
غیبت کا علاج جاننا آپ پر لازم ہے۔ اس کا علاج اجمالی اور تفصیلی دونوں طریقوں سے ہو سکتا ہے:
اجمالی علاج:
(۱)…اس کا اجمالی طریقہ تو یہ ہے کہ آپ یہ جان لیں کہ غیبت کے ذریعے آپ نے خود کو اللہ عَزَّوَجَلَّکی ناراضی اور اس کی سزا کا مستحق بنا لیا ہے جیسا کہ اس پر گزشتہ آیات و احادیث ِ مبارکہ دلالت کرتی ہیں۔ نیز اسی طرح یہ بھی جان لیں کہ یہ آپ کی نیکیوں کو بھی ختم کر دے گی کیونکہ مسلم شریف کی حدیث ِ پاک گزر چکی ہے کہ مفلس وہ ہے کہ جس کی نیکیاں لی جاتی رہیں گی یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائیں گی ۔ اگر پھر بھی اس پر کچھ حقوق باقی رہ گئے تو اس پر دوسروں (یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع