30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر اس کے لئے مذکورہ طریقے پر عمل کرنا مشکل ہو تو حضرت سیِّدُنا امام عبادیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی اور حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں کہ واجب جان کر وہ مال صدقہ کر دے۔ حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) نے اسے احکامِ وراثت میں شامل کیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام اسنوی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور دیگر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس (مال) کو صدقہ کی نیت سے رفاعِی کاموں میں خرچ کرنے کی اجازت دینے میں اسی کو اصل ٹھہرایا ہے۔ اگر وہاں پر شرائط کے مطابق قاضی نہ ہو تو امین خود رفاعی کاموں میں صرف کر دے اور اگر شرائط کے مطابق قاضی تو موجود ہو مگر اسے رفاعی کاموں میں مال استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو تو اس کی چند صورتیں ہیں : (۱)…ایسا مال قاضی کے حوالے کر دے تاکہ وہ خود تصرف کرے بشرطیکہ وہ رفاعی کاموں میں مال خرچ کرنے پر امین ہو، ورنہ(۲)… قاضی کو اس شرط پر مال دے کہ وہ اسے بیت المال میں شامل کر دے یا (۳)… اس کے قائم مقام جو بھی اس کی شرط کے مطابق ہو وہاں خرچ کر دے۔ حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’تیسری توجیہ ضعیف اور پہلی دو صحیح ہیں اوران دونوں میں زیادہ صحیح پہلی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اسے پہلی دونوں صورتوں کے درمیان اختیار دے دیا جائے تو یہ بھی اچھی رائے ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہی قول راجح ہے۔‘‘
اگر کہا جائے کہ جب امین اور اہل قاضی بھی بغیر اجازت رفاعی کاموں میں اس مال کو خرچ نہیں کر سکتا تو پھر کسی اورشخص کو وہ مال کیسے دیا جاسکتا ہے؟ تو ماقبل بحث میں غور وفکر کرنے سے اس قول کا فساد معلوم ہو جائے گا اور جس نے حاکم سے کوئی حرام چیز لی جس کے مالک کو وہ نہیں جانتا تو ایک گروۂ علماکے نزدیک وہ چیزبادشاہ کو لوٹا دے اور صدقہ نہ کرے، حضرت سیِّدُنا امام محاسبیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اسی قول کو اختیار کیا جبکہ دوسرے گروہ کے نزدیک مالک کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کر دے ۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۵۵۱)اور یہ بھی یاد رکھئے کہ سُود و رِشوت وغیرہ حرام مال کو نیک کاموں میں خرچ کرکے ثواب کی اُمّید رکھنے کے بارے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اُسے یعنی مالِ حرام کوخیرات کر کے جیسا پاک مال پر ثواب ملتا ہے اس کی اُمّید رکھے تو سخت حرام ہے ، بلکہ فُقَہائ(رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی)نے کُفر لکھا ہے۔ ہاں وہ جو شَرع نے حکم دیا کہ حقدار ( یعنی جس کا مال ہے وہ، یا وہ نہ رہا ہو تو اُس کا وارِث اور وہ بھی) نہ ملے تو فقیر پر تَصَدُّق (خیرات)کر دے اِس حکم کو مانا تو اِس پر (یعنی حکمِ شریعت پر عمل کرنے پر ) ثواب کی اُمّید کر سکتا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ،ج۲۳،ص۵۸۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع