30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی توبہ ان سے انتہائی سخت ہے کہ یہ لوگ اپنی جانوں کو ان کی ہیئت پر برقرار رکھتے ہوئے ان کی خواہشات ختم کر دیں۔ بعض نے اس کی تفسیر یہ بیان فرمائی کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جس نے کسی بوتل میں بادام یا موتی توڑنے کا ارادہ کیا تو یہ مشکل ہونے کے باوجود اس کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ آسان فرما دے۔
توبہ کی دوسری قسم:
توبہ کی اس قسم کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ اس میں بھی گزشتہ تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے لیکن اس میں اس شرط کا اضافہ ہے کہ حقوق العباد کا ساقط (یعنی ادا) کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر وہ حق مالی ہو اور ابھی تک اس کے پاس موجود ہو تو اسے لوٹا دے ورنہ اس کا بدل اس کے مالک یا نائب یا اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث کو دے جب تک کہ اس مال کے حق دار نے اسے بری نہ کیا ہو لیکن اسے بری کرنے کی خبر دینا لازم نہیں اور اگر اس کا وارث نہ ہو یا اس کی خبر ہی نہ ہو تو وہ مالی حق حاکم کے حوالے کر دے تا کہ وہ اسے بیت المال میں ڈال دے یا کسی ایسے حاکم کے حوالے کر دے جسے رفاعی کاموں میں مال خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہو(۱) ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موجودہ دورمیں حقوق مالیہ سے بری ُا لذِّمہ ہونے کی صورت: دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے’’ مکتبۃ المدینہ‘‘ کی مطبوعہ 107صفحات پر مشتمل کتاب ’’چندے کے باے میں سوال جواب‘‘کے صفحہ 45پر شیخ طریقت امیر اہلسنّت بانی ٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔقادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریر فرماتے ہیں : ’’ سُوال: سُودی رقم سے غریبوں کی مدد کرنا یا مسجِد کے اِستِنجاخانے تعمیر کروانا کیسا؟ کیا سُودی رقم چندہ میں دی جا سکتی ہے؟جواب:کسی نے سُود اگر چِہ نیک کاموں میں خرچ کرنے کیلئے لیا تاہَم اُسے سُود لینے کا گُناہ ہوگا۔کسی بھی نیک کام میں سُود اور مالِ حرام نہیں لگایا جا سکتا۔ بلکہ سودی مال کیمُتَعلِّق حکم یہ ہے کہ جس سے لیا اسے واپس کریں یا اس مال کو صدقہ کریں جبکہ رشوت ، چوری یا گناہوں کی اجرت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ انہیں بھی نیک کاموں میں خرچ نہیں کرسکتے بلکہ ان میں تو یہ ضَروری ہے کہ جس کی رقم ہے اُسے ہی واپس لوٹائے اور وہ نہ رہے ہوں تو اس کے وُرَثاء کو دے اور وہ بھی نہ ملیں تو پھر صَدَقہ کرنے کا حکم ہے چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : جو مال رشوت یا تَغَنِّی(یعنی گانے ) یا چوری سے حاصل ہوا اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا ان پر واپس کر دے ، وہ نہ رہے ہوں ان کے وُرثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پر تصدُّق کرے۔ خریدوفروخت کسی کام میں اس مال کا لگانا حرامِ قطعی ہے بِغیر صورتِ مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وَبال سے سُبکدَوشی کا نہیں یہی حکم سُود وغیرہ عُقُودِ فاسِدہ کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بِالخصوص انہیں واپَس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ(جس سے لیا ہے ) اسے واپَس دے خواہ ابتِداء ً تصدُّق(یعنی خیرات)… …
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع