30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس پر کوئی گواہی قائم ہوئی ہو نہ کوئی مطلع ہوا ہو تو اب حد قائم کرنے پر قدرت دینا جائز نہیں اور اگر اس نے اسے ظاہر کر دیا تو اس کے ظاہر کرنے پر وقف اور یتیم وغیرہ پر اس کی ولایت باطل ہونے کے کثیر مفاسد کا دروازہ کھل جائے گا اور اس کی وجہ سے وہ ظالم اور خیانت کرنے والا بن جائے گا اور اگر اسے دل میں چھپائے تو محفوظ رہے گا اور ان مفاسد وغیرہ کو ختم کرنے کے لئے اس کے لئے اس کا ظاہر کرنا جائز نہیں۔‘‘
گیارہویں شرط : ترک عبادت کے گناہ کا تدارک کرنا:
عبادت ترک کرنے کے گناہ میں مبتلا ہو تو اس کو دُور کرے مثلاً نماز یا روزہ چھوڑنے پر اس کی توبہ کا صحیح ہونا ان کی قضا پر موقوف ہے کیونکہ اس پر فوراً قضا واجب ہے اور توبہ نہ کرنے پر فاسق ہو جائے گا(۱) ۔
قضا نمازوں کی تعداد معلوم کرنے کا طریقہ:
حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں کہ اگر اسے قضا نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو غور وخوض کرے اور بالغ ہونے کے وقت سے جتنی نمازوں کے چھوڑنے کا یقین ہو جائے اتنی قضا کر لے۔
قدرت کے باوجود زکوٰۃ، کفارہ اور نذر ادا نہ کرنے میں اس کی توبہ کا صحیح ہونا مستحق تک ان چیزوں کے پہنچانے پر موقوف ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام واسطیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کو قتل کرنے پر موقوف تھی جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ (پ ۱، البقرۃ:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کر و۔
آیت ِ مبارکہ کی تفسیر:
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی توبہ محض جانوں کو ختم کرنا تھی جبکہ اس اُمَّت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہکی مطبوعہ1250 صفحات پرمشتمل کتاب بہارشریعتجلداول صفحہ700پر ہے: ’’بلاعذرِ شرعی نماز قضا کر دینابہت سخت گناہ ہے، اُس پر فرض ہے کہ اُس کی قضا پڑھے اور سچے دل سے توبہ کرے ،توبہ یا حجِ مقبول سے گناہِ تاخیر معاف ہو جائے گا ۔‘‘(الدرالمختار،کتاب الصلوٰۃ، باب قضاء الفوائت،ج۲،ص۶۲۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع