30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں فوری طور پر گناہ کو ترک کردینے کی شرط لگانا قطعاً ضروری ہے۔ کیونکہ کسی ایسی چیز پر حقیقی ندامت کا حصول ناممکن ہے جس میں نادِم(یعنی ندامت کرنے والا) مبتلا ہو یا آئندہ کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہو۔ اس لئے کہ سابقہ لغزش پر غمگین ہونا ندامت کے لوازمات میں سے ہے اور یہ چیز اس گناہ کو چھوڑنے اور آئندہ نہ کرنے کے عزم سے ہی متحقق ہو سکتی ہے۔
چوتھی شرط : زبان سے استغفار کرنا:
لفظی طور پر(یعنی زبان سے) استغفار کرنا۔ جیسا کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی ایک جماعت کا قول ہے اور ’’اَلْمَطْلَب‘‘میں ہے:’’وَسِیْط کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ فاسق کے لئے یہ کہنا ضروری ہے کہ میں نے توبہ کی۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے علاوہ کسی کا کوئی قول نہیں پایا، ہاں ! حضرت سیِّدُنا امام قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ وغیرہ کا قول ہے کہ ظہورِ گناہ کے وقت اپنی زبان سے ظاہری و باطنی طور پر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے استغفار کرے۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کی کتاب ’’تَصْحِیْحُ الْمِنْھَاج‘‘ میں ہے کہ اَلْمِنْھَاج کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ غیر قولی گناہ میں زبان سے استغفار کرنا معتبر نہیں جیسے تہمت لگانا حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس میں بھی استغفار معتبر ہے اور یہی حضرت سیِّدُنا امام ابوالطیب، حضرت سیِّدُنا قاضی حسین اور حضرت سیِّدُنا امام ماوردی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِم کا مؤقف ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :’’حقیقی علم تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے البتہ! ہمیں قرآن و سنت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ گناہ اگرچہ باطنی ہے لیکن ایسے الفاظ کہنا ضروری ہے جن سے اس کا گناہ پر نادِم ہونا ظاہر ہو یعنی وہ کہے: میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے گناہ پر مغفرت طلب کرتا ہوں ، یا اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! میری خطا معاف فرما، یا میں نے بارگاہِ الٰہی میں اپنے گناہ پر توبہ کی۔‘‘ پھرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے اس کو راجح قرار دیا مگر اس میں غور وفکر کی ضرورت ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام ابن رفعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَــیْہ کا کلام اس پر دلالت کرتا ہے کہ جن علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسے استغفار سے تعبیر کیا انہوں نے اس سے مراد ندامت لی نہ کہ الفاظ ادا کرنا۔ چنانچہ، فرماتے ہیں : جان لیجئے! باطن میں توبہ وہ ہے جس کے پیچھے ظاہر میں بھی ایسی توبہ حاصل ہو کہ جس پر گناہ کی بخشش وغیرہ کے احکام مرتَّب کئے جاسکیں جیسا کہ شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : دو اُمور کے سبب حدوداللہ، مالی تاوان اور حقوق العباد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع