30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طور پر حکم نہ لگانا مذہب ِ مخالفین کے برخلاف ہے۔
سوال: جب تم قبولیت ِ توبہ کا قطعی حکم نہیں لگاتے اور توبہ سزا کو بھی زائل نہیں کرتی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کو کس معنی پر محمول کرو گے؟
اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (پ۵، النساء: ۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے۔
نیزدرج ذیل فرامینِ مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماوراس جیسی دیگر احادیث ِ مبارکہ کو کس معنی پر محمول کرو گے؟
{1}…پانچ نمازیں ان کے درمیان والے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہیں۔ (۱)
{2}…ایک جمعہ دوسرے جمعہ کے درمیان کے(صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہے۔ (۲)
{3}… عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (۳)
{4}… عاشورا کے دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (۴)
{5}… بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک رات کے بخار سے مومن کی تمام خطائیں (صغیرہ گناہ ) مٹادیتا ہے۔ (۵)
جواب: گناہوں کے ارتکاب پر فوراً توبہ کرنا واجب ہے، پس تمام واجبات کی طرح توبہ کرنا بھی واجب ہے اور درحقیقت یہ ایک عبادت ہے جس پر ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ رہا سزا کا زائل کرنا تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے اور وہ ذات پاک ہے جس سے بہتر امید کی جاتی اور اچھا سوال کیا جاتا ہے۔
معتزلہ کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے سے صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں اور انہوں نے عقلی طور پر اس کے واجب ہونے کا دعویٰ کیا اوران پر الزام آتاہے کہ جب یہ نیکیاں کسی گناہ کو نہیں مٹاتیں اس لئے کہ صرف کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا ہی گناہ مٹا دیتا ہے تو عرفہ وغیرہ کے روزے کی مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس…الخ، الحدیث:۵۵۱،ص۷۲۰۔
2…سنن ابن ماجہ، ابواب اقامۃ الصلوات،باب ماجاء فی فضل الجمعۃ، الحدیث:۱۰۸۶،ص۲۵۴۰۔
3…السنن الکبری للنسائی،کتاب الصیام، باب صوم یوم عرفۃ…الخ، الحدیث:۲۸۰۰،ج۲،ص۱۵۱۔
4…السنن الکبری للنسائی،کتاب الصیام، باب صوم یوم عرفۃ …الخ، الحدیث:۲۸۰۰،ج۲،ص۱۵۱۔
5…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب المرض والکفارات، الحدیث:۲۸،ج۴،ص۲۳۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع