30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صغیرہ گناہوں کے معاملہ میں اجماعِ اُمَّت کے دعویٰ کو محلِ نظر قرار دینا زائل ہوگیا (امام اذرعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے مؤقف پر یہ دلیل دیتے ہیں کہ) معتزلہ کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے اجتناب کیا جائے تو صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور انہوں نے صغیرہ سے توبہ کے واجب ہونے میں اختلاف کیا۔
کبیرہ گناہوں سے اجتناب کا صغیرہ گناہوں کو مٹا دینا صغیرہ سے توبہ کے واجب ہونے پر اجماع سے مانع نہیں کیونکہ مٹانا چھپانے سے زیادہ نہیں ہوتا، لہٰذا جب اسے چھپا دیا جائے تو اُمید ہے کہ اس کا اثر مٹ جائے گا۔ یہ معاملہ کبھی واقع ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر کوئی چیز واجب نہیں پھر بھی اس سے توبہ کرنا واجب ہے تا کہ اس کے کرنے والے سے نافرمانی اور اس سرکشی کا عیب زائل ہو جائے جس کا اس نے ارتکاب کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کر کے اس سے مقابلہ کیا۔
اور میری مذکورہ تقریر اورمذکورہ اجماع سے حضرت سیِّدُنا امام ابو الحسن تقی الدین علی بن عبد الکافی سبکیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا یہ قول بھی زائل ہوگیا کہ بہرحال صغیرہ گناہوں کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یہ نماز، کبیرہ گناہوں سے اجتناب اور دیگر نیکیوں سے مٹ جاتے ہیں تو ان سے(فقط) توبہ ہی واجب العین نہیں ، بلکہ یا تو(مطلقًا) توبہ کرے گا یا کوئی نیکی کرے گا جو اُسے مٹا دے یا اس کو مٹا دینے والی نیکی کرنے کے بعدتوبہ کرے گا یا پھرفی الفور توبہ کرے گا اور یہی حضرت سیِّدُنا امام اشعری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا قول ہے۔
مذکورہ واضح تردید سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے بیٹے حضرت سیِّدُنا امام تاج الدین سبکی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا کہ ہر گناہ سے فوراً توبہ کرنا واجب العین ہے، ہاں ! بالفرض اگر صغیرہ سے توبہ نہ کی تھی پھر کوئی ایسا کام کیا جو گناہ مٹانے والا تھا تو وہ دونوں صغیرہ گناہوں یعنی گناہ اور تاخیرِ توبہ کومٹا دے گا۔
تَکْفِیْر سے مراد:
حضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں کہ تَکْفِیْرپردہ کو کہتے ہیں پس نماز کی مثل نیکی کا گناہوں کو مٹانے کا معنی یہ ہے کہ اس نیکی کا ثواب بڑے گناہ کی سزا کو( اپنے دامن میں ) چھپا لیتا ہے۔ چنانچہ، وہ اس سزا کو ڈھانپ لیتا اور باعتبارِ کثرت اس پر غالب آ جاتا ہے اور باقی رہا یہ کہ یہ سزا کوبالکل مٹا دیتا ہے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مشیَّت پر ہے۔ اپنی اس تقریر کے بعدحضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے یہ بھی فرمایا کہ قبولیت ِ توبہ پر قطعی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع